کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی، ظالمانہ کارروائیوں میں کئی افراد کی حراست، گمشدگی اور ہلاکتوں کا الزام
ہوسٹن ۔ 20 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کی امریکی شہر ہوسٹن میں آمد سے عین قبل ایک کشمیری جوڑے نے ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مقدمہ دائر کردیا۔ اس جوڑے نے الزام عائد کیا کہ ان کی ارض وطن کے 5 اگست کو یکطرفہ انضمام کے بعد سے جاری جبر و استبداد کی کارروائیوں میں ان کے کئی رشتہ دار محروس، لاپتہ اور ہلاک ہوگئے۔ کوہ ہمالیہ کے دامن میں واقع یہ علاقہ 1947ء میں تقسیم کے بعد سے ہندوستان اور پاکستان کے مابین تنازعہ کا مرکزی مقام بنارہا ہے۔ اس دوران وزیراعظم مودی نے اپنے ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کے خصوصی موقف کو کالعدم کردیا تھا جس کے بعد سے پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ امریکی عدالت میں داخل کردہ 73 صفحات پر مشتمل مقدمہ کی اس درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہیکہ وزیراعظم مودی، ان کے وزیراخلہ امیت شاہ اور ہندوستانی فوج کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل کنول جیت سنگھ ڈھلون نے ماورائے قانون و عدلیہ ہلاکتوں، بیجا اموات، جذبات کو ضرر رسانی، انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ فوجی کارروائیوں کے دوران کشمیریوں کے ساتھ بے رحمانہ اور غیرانسانی مظالم کئے گئے یا سزائیں دی گئیں۔ اس کشمیری جوڑے نے اپنی درخواست میں مزید الزام عائد کیا کہ مودی اور ان کے ساتھیوں نے نقص امن کیا اور وہ دانستہ، وحشیانہ کارروائیوں کو روکنے میں غفلت و لاپرواہی کی غلطی کے مرتکب بھی ہوئے ہیں۔
