وزیراعظم کے دورہ سے بی جے پی قائدین کی دوری موضوع بحث

   

رکن پارلیمنٹ ایس بابو راؤ، سابق ارکان پارلیمنٹ جی ویویک، وجئے شانتی
کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی اور دوسرے ناراض

حیدرآباد ۔ 2 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی جے پی ایک طرف اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کرچکی ہے وہیں پارٹی کے سینئر قائدین ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی پروگرامس سے دوریاں بنائے رکھی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ محبوب نگر سے رکن پارلیمنٹ ایس بابو راؤ سابق ارکان پارلیمنٹ جی ویویک، وجئے شانتی، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، سابق رکن اسمبلی اے رویندر ریڈی کے علاوہ دوسرے قائدین نے دوری بنائے رکھی ہے جو سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ تلنگانہ میں ڈبل انجن سرکار کا خواب دیکھنے والی بی جے پی کی قومی قیادت کو ریاست کے بی جے پی قائدین دن میں تارے دکھارہے ہیں جتنی تیزی سے قائدین بی جے پی میں شامل ہوئے تھے اتنی ہی تیزی سے مستعفی ہورہے ہیں یا اپنے آپ کو پارٹی کی سرگرمیوں سے دور رکھا ہے۔ یہاں تک کہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ واضح رہیکہ لمبے عرصہ سے بی جے پی قائدین کے درمیان اتحاد کا فقدان پایا جارہا ہے۔ اختلافات عام ہوگئے ہیں اور قائدین گروپ بندیوں کی سیاست میں ملوث ہورہے ہیں۔ بی جے پی کے ناراض قائدین نے ابھی تک تین خفیہ اجلاس منعقد کرچکے ہیں اور پارٹی سے مستعفی ہونے پر غور کررہے ہیں۔ کانگریس سے ٹکٹ ملنے کا اشارہ ملنے پر متحدہ طور پر بی جے پی سے مستعفی ہونے کی منصوبہ بندی رکھتے ہیں جس کا بی جے پی کی قومی قیادت سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے اور انہیں منانے کے ساتھ پارٹی کے امیج کو عوام میں بڑھانے کیلئے خصوصی حکمت عملی کا جائزہ لے رہی ہے۔ ساتھ ہی کانگریس سے ناراضی ہونے والے قائدین کو پارٹی میں شامل کرنے کیلئے پارٹی قائدین کو ان سے مشاورت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ضرورت پڑنے پر بی آر ایس میں ٹکٹ سے محروم ہونے کے بعد ناراض رہنے والے قائدین سے بھی بات چیت کرنے کے پارٹی قائدین کو اختیارات دیئے گئے ہیں۔ن