وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور کا الزام، چیف منسٹر کے بیان کوغلط پیش کرنے کی شکایت
حیدرآباد۔/9 فروری،( سیاست نیوز) وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور نے کہا کہ تلنگانہ کے بارے میں وزیر اعظم نریندر مودی کا بیان عوام کے جذبات اور عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم کے بیان سے تلنگانہ میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایشور نے کہا کہ تلنگانہ کی ترقی میں تعاون اور نیک تمناؤں کا اظہار کرنے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ مخالف تلنگانہ بیانات بی جے پی قائدین کا معمول بن چکا ہے اور وزیر اعظم کا تبصرہ اسی کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 برسوں میں تلنگانہ کے ساتھ مودی حکومت نے مسلسل ناانصافی کی ہے۔ جانبداری کے رویہ کے باوجود تلنگانہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود نے بتایا کہ وہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمہ کی تیاری کیلئے نئی دہلی میں ہیں۔ ایشور نے کہا کہ بی جے پی دور حکومت میں تین ریاستوں کی تشکیل کا وزیر اعظم نے دعویٰ کیا لیکن 2014 میں تلنگانہ کی تشکیل کے بعد بی جے پی برسراقتدار آئی ہے لہذا نئی ریاست کے قیام میں اس کا کوئی رول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت تنظیم جدید قانون کے وعدوں پر عمل آوری کی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ وزیر اقلیتی بہبود نے وزیر اعظم سے بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حسین ساگر کے قریب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمہ کی تنصیب چیف منسٹر کا گرین پراجکٹ ہے۔ دستور کی دفعہ 3 کے تحت علحدہ ریاست کا قیام عمل میں آیا ہے۔ ڈاکٹر امبیڈکر کی 125 ویں جینتی کے موقع پر 125 فیٹ بلند مجسمہ نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستور سے متعلق چیف منسٹر کے بیان کو غلط انداز میں پیش کرتے ہوئے عوام میں الجھن پیدا کی جارہی ہے۔ حالانکہ چیف منسٹر نے دستور میں ریاستوں کیلئے زائد حقوق کے حق میں ترمیم کی وکالت کی ہے۔ ر