وندے ماترم کا لزوم … چیف منسٹر آسام کا نفرتی ویڈیو
راہول گاندھی کی گھن گرج … اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد
رشیدالدین
ہندوتوا ایجنڈہ یا توجہ ہٹانے کی کوشش۔ جب کبھی مودی حکومت کسی تنازعہ میں پھنس جانے اور عوامی ناراضگی کا اندیشہ رہے تو فوری ملک کو ہندوتوا ایجنڈہ کی طرف ڈھکیل دیا جاتا ہے ۔ ہندوتوا ایجنڈہ سیاسی فائدہ کے حصول کا اہم ذریعہ ہے ۔ ساتھ ہی حکومت کی ناکامیوں کی پردہ پوشی کا اہم ذریعہ بن چکا ہے ۔ چیف منسٹر آسام ہیمنت بسوا سرما کے شرانگیز بیانات اور مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کا تنازعہ ابھی تھما نہیں تھا کہ مودی حکومت نے وندے ماترم کے لزوم کا نیا شوشہ چھوڑ کر اہم اور سلگتے مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ سے تجارتی معاہدہ ، ٹرمپ کے آگے مودی کا سرینڈر ، ملک کے مفادات پر سمجھوتہ ، لوک سبھا میں راہول گاندھی کی گھن گرج ، صدر جمہوریہ کے خطبہ پر مباحث سے مودی کا فرار ، قائد اپوزیشن کو اظہار خیال کی اجازت سے انکار ، اسپیکر لوک سبھا کے خلاف تحریک عدم اعتماد ، سابق فوجی سربراہ جنرل نروانے کی غیر مطبوعہ کتاب کا منظر عام پر آنا الغرض ایسے کئی مسائل ہیں جن میں مودی حکومت گھر چکی ہے۔ حکومت قوم کو جواب دینے اور اپوزیشن کا سامنا کرنے تیار نہیں ہے ۔ پارلیمنٹ اور اس کے باہر مودی حکومت جب دفاعی موقف میں آگئی اور جواب دینے کیلئے کچھ نہیں رہا تو نریندر مودی ، راج ناتھ سنگھ اور بی جے پی کے چانکیہ امیت شاہ چند دنوں سے لوک سبھا سے غائب ہوچکے ہیں۔ حکومت جب بحران میں گھر چکی تو اچانک وندے ماترم کے لزوم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ تمام سرکاری تقاریب اور تعلیمی اداروں میں قومی ترانہ کے ساتھ وندے ماترم کو مکمل طور پر لازمی پڑھنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے میڈیا اور عوام میں نئی بحث چھیڑدی گئی ۔ مقصد صرف یہ ہے کہ عوام کو حساس اور متنازعہ مسائل میں الجھاکر رکھ دیا جائے تاکہ ان کی نظریں حکومت کی ناکامیوں پر پڑنے نہ پائیں۔ گزشتہ 12 برسوں میں بی جے پی یہی کچھ کرتی آرہی ہے ۔ جب کبھی اپوزیشن بالخصوص لیڈر آف اپوزیشن حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتے ہیں ، کچھ نہ کچھ مذہبی تنازعہ چھیڑ کر عوام کی توجہ کو موڑ دیا جاتا ہے ۔ بی جے پی حکومت بیک وقت سیاسی اور ہندوتوا ایجنڈہ پر عمل پیرا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں الٹ پھیر اور پھر ووٹ چوری جیسے سنگین جرائم کو راہول گاندھی نے ثبوت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا لیکن فرقہ وارانہ ایجنڈہ کو اس شدت سے ہوا دی گئی کہ عوام مودی حکومت کے اسکام کو بھول گئے ۔ آپریشن سندور کے دوران ٹرمپ کی ہدایت پر سرینڈر سے ہر کوئی واقف ہے۔ تازہ ترین تنازعہ امریکہ سے ٹریڈ ڈیل کا ہے جس میں امریکہ کے آگے 140 کروڑ ہندوستانیوں کے مستقبل کو سرینڈر کردیا گیا۔ امریکہ کے ساتھ ہندوستانیوں کی عزت نفس کی سودے بازی پر جب ملک میں تنقیدوں کا سامنا ہوا تو اچانک وندے ماترم کے لزوم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ پارلیمنٹ میں حالیہ دنوں میں جب وندے ماترم کے 150 سال کی تکمیل پر مباحث ہوئے تو حکومت نے کہا تھا کہ شہریوں کو کسی بھی گیت یا ترانہ کیلئے مجبور نہیں کیا جائے گا لیکن اچانک لزوم کا نوٹیفکیشن یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ وندے ماترم کے نام پر مسلمانوں اور ہندوؤں کو ایک دوسرے کے مقابل کرنے کی سازش ہے۔ ہندوستان دستور اور قانون کے مطابق چلنا چاہئے یا پھر ہندوتوا ایجنڈہ پر عمل کیا جائے جس کا مقصد ہندو راشٹرا کا قیام ہے؟ دستور اور قانون کی بالادستی قائم رکھنے کیلئے حلف لینے والے بھول چکے ہیں کہ دستور ہند کی دفعہ 25 کے تحت ہر شہری کو مذہبی آزادی ہے۔ ہر شہری اپنی پسند کے مذہب پر نہ صرف عمل کرسکتا ہے بلکہ اس کی تبلیغ کرنے کا حق رکھتا ہے لیکن وندے ماترم کے لزوم کے ذریعہ مودی حکومت کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے۔ مسلمان ظلم ، جبر اور ناانصافی کو برداشت کرلے گا لیکن دین اور شریعت میں مداخلت کو برداشت نہیں کرسکتا۔ وندے ماترم ایک شرکیہ گیت ہے جسے مسلمان ہرگز نہیں پڑسکتے۔ سابق میں سوریہ نمسکار کو مدارس میں لازم کرنے کی کوششوں کا مسلمانوں نے جرأت مندی سے مقابلہ کیا تھا جس پر حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑا۔ مسلمان اللہ کی ذات میں کسی کو شریک نہیں کرسکتا ، لہذا زمین یا ملک کو خدا تصور کرنا اسلامی عقیدہ کے برخلاف ہے ۔ وندے ماترم کو حب الوطنی سے جوڑ کر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ مسلمان وطن سے محبت نہیں کرتے۔ نفرتی عناصر کو جان لینا چاہئے کہ وطن کی محبت اور عبادت میں فرق ہے۔ مسلمانوں کو حب الوطنی ثابت کرنے کیلئے کسی کے سرٹیفکٹ کی ضرورت نہیں۔ 1857 سے لے کر 1947 آزادی تک مسلمانوں کی قربانیوں کی مثال شائد کوئی اور قوم پیش کرسکے۔ ملک کے چپہ چپہ میں آج بھی ہماری عظمتوں کے نشان موجود ہیں۔ دنیا بھر میں جن شاہکار اور تاریخی عمارتوں سے ہندوستان کی شناخت ہے ، وہ مسلمانوں کی یادگاریں ہیں۔ بیرونی مہمانوں کو تاج محل ، قطب مینار اور لال قلعہ کی سیر کرائی جاتی ہے۔ نریندر مودی گزشتہ 12 برسوں سے یوم آزادی کے موقع پر مسلمانوں کی یادگار لال قلعہ پر قومی پرچم لہرانے کیلئے مجبور ہیں ۔ اگر انہیں مسلمانوں سے نفرت ہو تو کسی اور مقام کا انتخاب کر کے دکھائیں۔ کوئی بیرونی سربراہ مملکت ہندوستان کے دورہ پر آئے تو جس عمارت میں استقبال اور مذاکرات ہوتے ہیں وہ’’حیدر آباد ہاؤز‘‘ نظام حیدرآباد کا تعمیر کردہ ہے ۔ دوسری طرف آسام میں بی جے پی نے چیف منسٹر ہیمنت بسوا سرما کا ایک انتہائی اشتعال انگیز ویڈیو جاری کیا جس میں چیف منسٹر کو مسلمانوں پر نشانہ لگاتے ہوئے فائرنگ کرتے دکھایا گیا ہے ۔ آرٹیفشل انٹیلیجنس سے تیار کردہ اس ویڈیو میں چیف منسٹر کی بندوق کی گولی کے نشانہ پر مسلمان ہیں۔ ویڈیو کے خلاف ملک بھر میں ناراضگی کے بعد سوشیل میڈیا پلیٹ فارم سے ویڈیو ہٹادیا گیا لیکن اس وقت تک ویڈیو وائرل ہوچکا تھا اور آج بھی عوام میں گشت کر رہا ہے۔ بنگلہ دیشی دراندازوں کے نام پر دن رات مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے والے چیف منسٹر کو اپنے الفاظ پر ندامت اور افسوس تک نہیں بلکہ مسلمانوں کی مخالفت کو اپنا حق بتا رہے ہیں ۔ ہیمنت بسوا سرما کی شرانگیزی کا معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے ۔ سپریم کورٹ کا امتحان ہے کہ وہ اپنی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائینس کی خلاف ورزی پر چیف منسٹر کے خلاف کیا کارروائی کرے گا۔ سپریم کورٹ کے نفرتی بیانات کے خلاف جاری کردہ گائیڈ لائینس پر عمل کیا جائے تو ہیمنت بسوا سرما کو جیل میں ہونا چاہئے ۔ اگر مان لیا جائے کہ چیف منسٹر نے ویڈیو میں بنگلہ دیشیوں کو نشانہ بنایا تب بھی قانون انہیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ بنگلہ دیش دراندازوں پر فائرنگ کریں۔ ایک طرف بنگلہ دیشی مسلمانوں سے نفرت ہے لیکن دوسری طرف نریندر مودی نے بنگلہ دیش سے راہ فرار اختیار کرنے والی شیخ حسینہ کو ملک میں پناہ دیتے ہوئے ان کی مہمان نوازی میں مصروف ہیں۔ نفرتی مہم میں بے لگام ہیمنت بسوا سرما کو یقینی طور پر مودی اور امیت شاہ کی سرپرستی حاصل ہے اور دونوں نے چیف منسٹر کی شرانگیزی کی مذمت تک نہیں کی۔ جس وقت چیف منسٹر آسام کا ویڈیو وائرل ہوا ، اسی وقت نریندر مودی مسلم ملک ملایشیا کے دورہ پر تھے اور وزیراعظم انور ابراہیم سے پرجوش گلے مل رہے تھے۔ مسلم حکمرانوں سے مودی کی محبت ، لیکن ہندوستانی مسلمانوں سے نفرت کیوں؟
پارلیمنٹ میں نریندر مودی کی طرفداری اور انہیں بچانے کی کوشش اسپیکر اوم برلا کے لئے مہنگی ثابت ہوئی۔ صدر جمہوریہ کے خطبہ پر مباحث میں راہول گاندھی کو اظہار خیال سے محض اس لئے روکا گیا کیونکہ وہ لداخ میں چین کی مداخلت پر نریندر مودی کی خاموشی کو جنرل نروانے کی کتاب سے بے نقاب کرنا چاہتے تھے ۔ تین دن تک راہول گاندھی کو بولنے سے روکا گیا ، آخرکار خود وزیراعظم نے لوک سبھا میں مباحث کا جواب نہیں دیا۔ وہ دراصل راہول گاندھی کے سوالات کا سامنا کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ اوم برلا جو پریسائیڈنگ آفیسر کے طور پر غیر جانبدار ہونا چاہئے ، وہ علی الاعلان حکومت کی تائید میں کھڑے رہے اور اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کی۔ اپوزیشن نے آخر کار اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں یہ دوسرا موقع ہے جب اسپیکر لوک سبھا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔ بلرام جھاکر کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تھی۔ بجٹ پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے راہول گاندھی نے ایپسٹین فائلز میں وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے تذکرہ کا حوالہ دیا۔ راہول گاندھی نے اپنے دعویٰ کے حق میں دستاویزات پیش کرنے کا چیلنج کیا جو حکومت کو منظور نہیں ہوا ۔ راہول گاندھی نے ایپسٹین فائلز اور امریکہ سے ٹریڈ ڈیل کی خامیوں اور ہندوستانی عوام کے مفادات پر سمجھوتہ کو بے باکی کے ساتھ پیش کرتے ہوئے حکومت کو گھیر لیا۔ پارلیمنٹ میں راہول گاندھی نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا جس کے بعد بی جے پی نے لوک سبھا کی رکنیت ختم کرنے کی سازش رچی ہے۔ ملک کے حالات پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں