نئی دہلی: لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے وقف ترمیمی بل پاس ہونے کے بعد کولکتہ، چینائی اورگجرات کے احمد آباد میں آج کچھ مسلم تنظیموں نے زبردست احتجاج کیا۔ ہاتھوں میں بیانرس و تختیاں لے کر نعرے بازی کرتے ہوئے سینکڑوں افراد نے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ پولیس نے درجنوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں اے آئی ایم آئی ایم کے رہنما بھی شامل ہیں۔احمد آباد کی سیدی سید جالی مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد سڑکوں پر زور دار مظاہرہ کیا گیا۔ لوگ ہاتھوں میں بیانرس و تختیاں لے کر احتجاج کرنے لگے۔ تختیوں پر یکساں سیول کوڈ (یو سی سی) کے خلاف بھی نعرے درج تھے۔ اتراکھنڈ کے بعد گجرات میں بھی یو سی سی کے نفاذ کے لیے حکومت نے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔احتجاج اور نعرے بازی کے دوران بڑی تعداد میں پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور لوگوں کو سڑک سے ہٹانے لگے۔ مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان کافی دیر تک دھکم پیل ہوتی رہی۔ مظاہرین سڑک پر لیٹنے لگے۔ پولیس نے اے آئی ایم آئی ایم کے صوبائی صدر سمیت درجنوں افراد کو حراست میں لے لیا۔ مظاہرین کو بسوں میں ڈال کر پولیس تھانے لے جایا گیا۔مظاہرین میں سے ایک شخص نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ یہ زیادتی ہے۔ ہم پورے ہندوستان اور دنیا میں یہ پیغام پہنچائیں گے کہ مسلمانوں کے خلاف ایک بڑی سازش ہو رہی ہے۔ مظاہرین بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے وقف بل کے ساتھ ساتھ یو سی سی کو بھی واپس لینے کا مطالبہ کیا۔