وقف بورڈ کا 300 غیر قانونی جائیدادوں کےرجسٹریشن کو منسوخ کروانے کا عزم

   


حیدرآباد :۔ تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ نے رنگاریڈی ڈسٹرکٹ اور حیدرآباد میں چند افراد کی جانب سے جائیدادوں کو غیر قانونی طور پر ان کے نام پر منتقل کرنے کے بعد 300 جائیدادوں کے رجسٹریشن کو منسوخ کرتے ہوئے اس طرح کے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیرمین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ یہ جائیدادیں مامڑی پلی ، بالا پور اور دبیر پورہ میں واقع ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 300 جائیدادوں کے معاملہ میں رجسٹریشن منسوخ کرنے اور لینڈ گرابرس سے اراضی دوبارہ حاصل کرنے کا عمل شروع ہوگیا ہے ۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے کہا کہ وہ ان جائیدادوں کا قبضہ حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جو تنازعات میں نہیں ہیں اور جہاں عدالت کی جانب سے حکم التواء نہیں ہے ۔ ایک سینئیر عہدیدار نے کہ کہ ’ مامڑ پلی میں تقریبا 700 ایکر اراضی پر لینڈ گرابرس نے قبضہ کیا ۔ اسی طرح بالا پور میں 100 ایکر ، مہیشورم میں مسلم میٹرنٹی ہاسپٹل کی زمین 500 ایکر اور کندکور میں 100 ایکر سے زائد اراضی لینڈ گرابرس کے قبضہ میں چلے گئی ‘ ۔ بعض صورتوں میں ریونیو کے عہدیداروں نے وقف اراضی کو خانگی اشخاص اور فرمس کے نام منتقل کیا ۔ محمد سلیم نے کہا کہ ایک جائیداد ۔ واری انوینٹری اور اسٹاٹس کی تیاری کی جارہی ہے ۔ اگر عدالتی کیس بھی ہو تو وقف جائیداد کی بازیابی کے لیے سینئیر وکلاء کی خدمات حاصل کی جارہی ہے ‘ ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ ہائی کورٹ میں 17 دسمبر کو سماعت ہونے والی ہے اس لیے وقف بورڈ کے عہدیدار وقف جائیدادوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی پیشرفت سے واقف کروانا چاہتے ہیں ۔ سرکاری ریکارڈس کے مطابق تقریبا 75 فیصد وقف جائیدادوں پر 50 سال میں غیر قانونی قبضے کئے گئے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ایوان اسمبلی میں اعتراف کیا تھا کہ 77,000 ایکر وقف اراضیات میں 57,000 ایکر 1963 اور 2013 کے درمیان لینڈ گرابرس کے ہاتھوں میں چلی گئیں ۔ چند ماہ قبل ریاستی حکومت نے وقف اور انڈومنٹس کی اراضیات کے رجسٹریشن پر امتناع عائد کیا اور ان جائیدادوں کو انڈین رجسٹریشن ایکٹ کے سیکشن 22A کے تحت کیا اور انہیں آٹو ۔ لاک سسٹم کے تحت لایا ۔۔