وقف بورڈ کی کارکردگی ٹھپ، سی ای او کے بغیر ایک ہفتہ مکمل

   

اقلیتی اداروں سے حکومت کی عدم دلچسپی،زائد ذمہ داریوں کے نتیجہ میں فلاحی اسکیمات متاثر
حیدرآباد ۔ 23 ۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) اقلیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں حکومت کو کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے بغیر وقف بورڈ کا ایک ہفتہ مکمل ہوچکا ہے لیکن آج تک حکومت نے متبادل انتظام کرتے ہوئے نئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کا تقرر نہیں کیا۔ اس کے علاوہ دیگر اقلیتی اداروں میں مستقل عہدیداروں کی کمی کے نتیجہ میں زائد ذمہ داریوں کے ساتھ تین عہدیداروں کے ذریعہ اقلیتی بہبود کے تمام ادارے چلائے جارہے ہیں۔ وقف بورڈ ایک اہم ادارہ ہے جہاں روزانہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں اہم فیصلوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ عدالتوں میں مقدمات کی موثر پیروی کیلئے روزانہ اسٹانڈنگ کونسلس کی رہنمائی کے علاوہ مساجد ، درگاہوں اور قبرستانوں کی کمیٹیوں کی منظوری جیسی اہم ذمہ داریاں چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے تحت ہوتی ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو چیک پاور حاصل ہے اور ان کے بغیر اوقافی اداروں کو گرانٹ ان ایڈ جاری نہیں کی جاسکتی ۔ وقف بورڈ کے تحت چلنے والی ائمہ اور مؤذنین کی اسکیم اور بیواؤں کو ماہانہ گزارے کی رقم کی اجرائی کیلئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر ضروری ہے۔ گزشتہ پیر کو ایم اے حمید نے چار ماہ طویل رخصت حاصل کرلی۔ اگرچہ انہوں نے رخصت کی درخواست بہت پہلے حکومت کو پیش کردی تھی لیکن متبادل انتظامات پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ طویل رخصت کے آغاز کو ایک ہفتہ مکمل ہوگیا لیکن وقف بورڈ کیلئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر مقرر نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں بورڈ کی تمام تر سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہے۔ وقف بورڈ کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں پر عمل آوری کیلئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی موجودگی لازمی ہے ۔ گزشتہ بورڈ اجلاس کے فیصلوں پر عمل آوری کا کام ابھی تک پورا نہیں ہوا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے محکمہ جات میں مسلم عہدیداروں کی کمی کے نتیجہ میں متبادل انتظامات میں دشواری ہورہی ہے۔ وقف بورڈ کیلئے جس رینک کے عہدیدار کی ضرورت ہے ، اس رینک سے کم رینک والے بعض عہدیدار موجود ہیں لیکن ان کے تقرر کی صورت میں معاملہ عدالت تک پہنچ سکتا ہے۔ جو عہدیدار سی ای او کے پوسٹ کے لئے اہلیت رکھتے ہیں، وہ وقف بورڈ میں آنے کیلئے تیار نہیں ۔ ایم اے حمید کو ظہیر آباد میں آر ڈی او کے عہدہ پر فائز تھے ، حکومت نے کافی پریشر کے بعد سی ای او وقف بورڈ کا عہدہ قبول کرنے کیلئے مجبور کیا تھا ۔ مختصر مدت میں وہ سیاسی اور دیگر دباؤ سے عاجز آکر ایم اے حمید نے طویل رخصت حاصل کرلی ۔ صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم گزشتہ ایک ہفتہ سے متبادل انتظام کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے دفتر ، وزیر اقلیتی بہبود اور سکریٹری اقلیتی بہبود سے مسلسل نمائندگی کر رہے ہیں لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ وقف بورڈ جیسے ادارے میں ایک ہفتہ سے زائد تک چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی عدم موجودگی بورڈ میں غیر مجاز سرگرمیوں کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم آئی پی ایس اور سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ نے وقف بورڈ کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا کیونکہ پہلے ہی ان کے پاس علی الترتیب اردو اکیڈیمی ، میناریٹی اسٹڈی سرکل اور حج کمیٹی کی زائد ذمہ داریاں ہیں۔ اردو اکیڈیمی حج کمیٹی اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کو اضافی ذمہ داری کے طور پر تین عہدیداروں کے حوالے کیا گیا جو اپنی موجودہ ذمہ داریوں کے علاوہ زائد ذمہ داریوں کے لئے وقت دینے کے موقف میں نہیں ہے ۔ عہدیداروں کی کمی کے سبب اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری بری طرح متاثر ہوئی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور اس کے اعلیٰ عہدیداروں کو کوئی پرواہ نہیں۔