وقف بورڈ کے اجلاس میں اقامتی اسکولوں کو اراضی کے مسئلہ پر گرماگرم مباحث

   

کسی فیصلے کے بغیر اجلاس ملتوی، دو ارکان کی مخالفت سے اہم مسئلہ زیر التوا
حیدرآباد۔ 12 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کے اجلاس میں اقلیتی اقامتی اسکولوں کی تعمیر کے لیے وقف اراضی الاٹ کرنے کے مسئلہ پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا۔ بعض ارکان کی شدید مخالفت کے سبب ایجنڈے کے مطابق کسی کارروائی کے بغیر ہی اجلاس کو ملتوی کردیا گیا۔ صدرنشین محمد سلیم کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا جس کے ایجنڈے میں سرفہرست اقلیتی اقامتی اسکولوں کو وقف بورڈ کی اراضی لیز پر دیئے جانے کا مسئلہ تھا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہ نواز قاسم آئی پی ایس اور سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ ارکان کو حکومت کی تجویز اور وقف بورڈ کو ہونے والے فوائد سے واقف کرانے کے لیے خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ کارروائی کا جیسے ہی آغاز ہوا، شاہ نواز قاسم نے ارکان کو بتایا کہ حکومت 71 اقامتی اسکولوں کے لیے وقف اراضی لیز پر حاصل کرنا چاہتی ہے۔ جہاں حکومت کی اراضی دستیاب نہیں وہاں وقف بورڈ کی اراضی پر اسکولس تعمیر کئے جائیں گے۔ خانگی عمارتوں میں بھاری کرایہ ادا کیا جارہا ہے اور اگر وقف بورڈ اراضی لیز پر دیتا ہے تو نہ صرف اوقافی اراضی کا تحفظ ہوگا بلکہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ اقامتی اسکول سوسائٹی کروڑہا روپئے کرایوں میں ادا کررہی ہے، وہی رقم وقف بورڈ کو حاصل ہوسکتی ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی وضاحت کے ساتھ ہی بورڈ کے دو ارکان زیڈ ایچ جاوید اور ایم اے وحید نے تجویز کی مخالفت کی اور کہا کہ سرکاری اداروں کو منشاء وقف کے تحت موجود اوقافی اراضی کس طرح حوالے کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کو مرکزی حکومت سے فنڈس حاصل ہورہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سرکاری اراضی الاٹ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی اراضیات منشاء وقف کے تحت استعمال کی جاسکتی ہیں اور اس میں تبدیلی کا اختیار کسی کو نہیں ہے۔ دونوں ارکان نے سوشیل ویلفیر اقامتی اسکولوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان اسکولوں کے لیے حکومت اپنی اراضی الاٹ کررہی ہے۔ اس مسئلہ پر گرماگرم مباحث کے دوران صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے مداخلت کی اور حکومت کی تجویز کے حق میں ارکان کو سمجھانے کی کوشش کی۔ محمد سلیم نے کہا کہ ناجائز قبضوں سے اوقافی اراضیات کو بچانے میں وقف بورڈ کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں اگر اسکولوں کے لیے اراضی لیز پر دی جاتی ہے تو اس سے اراضیات کا تحفظ ہوگا اور بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کی کوشاں ہے اور اسکولوں کو اراضیات لیز پر دیتے ہوئے وقف بورڈ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ بورڈ کے دیگر ارکان اگرچہ حکومت کی تجویز کے حق میں تھے لیکن دو مخالف ارکان کے رویہ کے سبب مباحث کا آغاز نہیں ہوسکا۔ بتایا جاتا ہے کہ زیڈ ایچ جاوید نے بورڈ کی رکنیت ختم ہونے کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات اور ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے ان کے خلاف پیش ہونے پر اعتراض جتایا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے جب یہ معاملہ ہے تو پھر اسکولوں کے لیے وقف بورڈ اراضی کیوں الاٹ کرے۔ اقامتی اسکولوں میں دھاندلیوں اور بے قاعدگیوں کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا جس پر شفیع اللہ نے وضاحت کی اور کہا کہ اسکولوں میں مذہبی تعلیم کا انتظام ہے اور طلبہ کی اکثریت کا تعلق مسلم اقلیت سے ہے۔ لہٰذا وقف بورڈ اسکولوں کے لیے اراضی الاٹ کرنے پر فیصلہ کرسکتا ہے۔ بعض ارکان نے اس مسئلہ پر قطعی فیصلہ کرنے سے قبل حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ سے مشاورت کی تجویز پیش کی جس کے بعد آئندہ اجلاس میں رکن پارلیمنٹ مدعو کرتے ہوئے قطعی فیصلہ کرنے سے اتفاق کیا گیا اور اجلاس ملتوی ہوگیا۔ اجلاس میں بورڈ کے ارکان مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی صابری، مرزا انوار بیگ، صوفیہ بیگم، نثار حسین حیدر آغا اور ملک معتصم خان کے علاوہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایم اے حمید نے شرکت کی۔