وقف بورڈ کے متولی اور بار کونسل زمرہ جات کیلئے 28 فروری کو رائے دہی

   

متولی کی 2 نشستوں کیلئے 7 امیدوار میدان میں، بار کونسل کیلئے 2 امیدوار، نامزد ارکان کیلئے سرگرمیاں
حیدرآباد 21 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں متولی و منیجنگ کمیٹی اور بار کونسل زمرہ جات میں رائے دہی یقینی ہوچکی ہے۔ پرچہ جات نامزدگی واپس لینے کی آج آخری تاریخ تھی جس میں متولی و منیجنگ کمیٹی زمرہ کے 4 امیدواروں نے اپنا نام واپس لے لیا جس کے بعد 7 امیدوار میدان میں ہیں۔ اِس زمرہ کے تحت 2 امیدواروں کا بحیثیت رکن وقف بورڈ انتخاب کرنا ہے۔ اِسی طرح بار کونسل زمرہ کی ایک نشست کے لئے 2 امیدوار میدان میں ہیں۔ الیکشن آفیسر و ضلع کلکٹر حیدرآباد ایل شرمن نے دونوں زمرہ جات کے امیدواروں کی قطعی فہرست جاری کردی ہے۔ دونوں زمرہ جات کے لئے 28 فروری کو رائے دہی مقرر ہے۔ صبح 11 تا شام 4 بجے وقف بورڈ کے دفتر واقع رزاق منزل میں رائے دہی ہوگی اور شام 5 بجے ووٹوں کی گنتی کے بعد نتیجہ کا اعلان کردیا جائے گا۔ متولی و منیجنگ کمیٹی زمرہ کے ووٹرس کی تعداد 475 ہے۔ چونکہ انتخابی میدان میں 7 امیدوار ہیں لہذا ترجیحی ووٹ کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا۔ الیکشن آفیسر کے مطابق ہر ووٹر کو ترجیحی طور پر 7 امیدواروں کو ووٹ دینا ہوگا۔ اگر کوئی ووٹر چاہے تو صرف دو امیدواروں کو ہی ووٹ دے سکتا ہے کیوں کہ صرف دو کا وقف بورڈ کے ارکان کی حیثیت سے انتخاب ہونا ہے۔ متولی و منیجنگ کمیٹی زمرہ کے 7 امیدواروں میں مرزا انوار بیگ، منور حسین، مرزا شہریار بیگ، مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی، محمد خیرالحسن، مسیح الرحمن ذاکر اور ابوالفتح سید بندگی بادشاہ قادری شامل ہیں۔ جن 4 امیدواروں نے اپنا پرچہ نامزدگی واپس لیا اُن میں فراست علی بخشی، مظفر علی صوفی، ظہیر احمد خان اور عبدالمجید شامل ہیں۔ بار کونسل زمرہ کی ایک نشست کے لئے ایم اے کے مقیت اور ذاکر حسین جاوید انتخابی میدان میں ہیں۔ رائے دہی کے دن یہ دونوں ووٹنگ میں حصہ لیں گے۔ اگر دونوں کو ایک ایک ووٹ حاصل ہوتا ہے تو الیکشن آفیسر حکومت کو رپورٹ کریں گے اور حکومت کو اختیار ہے کہ وہ وقف ایکٹ کے تحت سینیاریٹی کی بنیاد پر کسی ایک امیدوار کا بحیثیت رکن وقف بورڈ انتخاب کرے۔ بار کونسل زمرہ کے رکن کے انتخاب کے طریقہ کار کے بارے میں الیکشن آفیسر نے تاحال کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ معاملہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوسکتا ہے۔ ارکان مقننہ زمرہ میں فاروق حسین اور کوثر محی الدین بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ زمرہ میں تلنگانہ کے واحد مسلم رکن اسد اویسی کا انتخاب یقینی ہے۔ رائے دہی کے ذریعہ 6 ارکان کا انتخاب ہوگا جبکہ حکومت 5 ارکان کو مختلف زمروں کے تحت نامزد کرنے کے بعد اِن میں سے کسی ایک کو صدرنشین مقرر کیا جائے گا۔ تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل جدید میں کئی برسوں کے بعد متولی اور منیجنگ کمیٹی زمرہ میں رائے دہی ہورہی ہے۔ بورڈ کے صدرنشین اور ارکان کی حیثیت سے شمولیت کے لئے ٹی آر ایس قائدین کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صدرنشین کے عہدہ کے لئے بھی کئی دعویدار ہیں۔ تاہم اِس معاملہ میں چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انتخابی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد چیف منسٹر حکومت کی حلیف جماعت مجلس سے مشاورت کے بعد نامزد ارکان اور صدرنشین کے ناموں کو قطعیت دیں گے۔ ر