حیدرآباد 26 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے ونپرتی ضلع ہیڈکوارٹر میں بادشاہوں کے بنگلے کے احاطہ (اب پالی ٹیکنک کالج) میں ایک کنواں بنایا گیا ہے۔ تقریباً ساڑھے چار دہائیوں کے بعد یہ واٹر آرٹ بن گیا ہے۔ یہ بنگلہ 1849ء میں ونپرتی کے پہلے حکمران راجہ رام کرشن راؤ نے بنایا تھا۔ 1864ء میں اس کی بیوی رانی شنکراماں نے عمارت کی جنوبی مشرقی سمت میں 70 فٹ گہرا کنواں بنایا اور اس کا نام گرودا پشکرینی رکھا۔ دوسرے حکمراں راجہ رامیشور راؤ نے اس کنویں کو مزید ترقی دی۔ 1959ء میں اسے پالی ٹیکنک کی عمارت میں تبدیل کردیا گیا۔ بعد میں دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یہ خستہ خالی کا شکار ہوگیا تھا تاہم دو سال قبل ونپرتی سے تعلق رکھنے والی گرین کور این جی او کے منتظمین نے عطیہ دہندگان کے تعاون اور میونسپلٹی کی مدد سے صاف کیا جس سے کنویں میں پانی بہنے لگا۔ حال ہی میں بارش کی وجہ سے بہاؤ میں اضافہ ہوا۔ کنواں ایک مکمل تالاب کی طرح بن گیا ہے اور سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کررہا ہے۔ (ش)