ووٹ حاصل کرنے مسلمانوں سے مذاق، 2 پراجکٹس کا دوبارہ سنگ بنیاد

   

حج ہاوز سے متصل کامپلکس کا 14 سال بعد اور جہانگیر پیراںؒ ترقیاتی پراجکٹ کا 6 سال بعد سنگ بنیاد ،اسلامک سنٹر اور اجمیر رباط کے وعدوں پر کوئی پیشرفت نہیں
حیدرآباد۔/10 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے سیاسی پارٹیاں کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں خاص طور پر برسراقتدار پارٹی رائے دہندوں کو رجھانے کیلئے نت نئے طریقے اختیار کرتی ہے۔ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات سے عین قبل برسراقتدار بی آر ایس کو مسلمانوں کے ووٹ بینک سے محرومی کا خطرہ ستانے لگا ہے۔ مسلم ووٹ بینک کو کانگریس کی طرف جانے سے روکنے کیلئے حکومت نے بعض پراجکٹس کا دوسری مرتبہ سنگ بنیاد رکھا۔ اقلیتوں کی بھلائی اور ترقی کے سلسلہ میں کے سی آر حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل سے اقلیتوں کی ناراضگی محسوس کرتے ہوئے انتخابی شیڈول کی اجرائی سے عین قبل حکومت نے بعض پراجکٹس اور تعمیری کاموں کا دوبارہ سنگ بنیاد رکھا جبکہ سابق میں ان کاموں کے افتتاح کی تقریب منعقد ہوچکی تھی۔ انتخابی شیڈول کے اعلان سے عین قبل انیس الغرباء کی ہمہ منزلہ عمارت کا افتتاح عمل میں آیا لیکن افتتاحی تقریب میں چیف منسٹر کے سی آر اور ریاستی وزراء کے ٹی راما راؤ اور ہریش راؤ نے عدم شرکت کے ذریعہ مسلمانوں کو مایوس کردیا۔ حج ہاوز کے احاطہ میں زیر تعمیر کامپلکس کے زیر تکمیل کاموں کی تکمیل کیلئے حکومت نے 23 کروڑ روپئے مختص کئے اور زیر تعمیر کامپلکس کو نارتھ بلاک کا نام دیتے ہوئے تعمیری کاموں کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ تقریب کے سلسلہ میں نصب کردہ تختی پر چیف منسٹر کے سی آر اور ریاستی وزراء ٹی سرینواس یادو، کے ٹی راما راؤ اور کے ایشور کے نام تحریر کئے گئے لیکن یہ وزراء تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کانگریس دور حکومت میں 22 فروری 2009 کو مذکورہ کامپلکس کو گارڈن ویو وقف مال کا نام دیا گیا اور چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے سنگ بنیاد رکھا تھا۔ تعمیری کاموں میں بجٹ کی کمی کے سبب رکاوٹ پیدا ہوئی اور تلنگانہ کی تشکیل کے بعد گذشتہ 10 برسوں میں کے سی آر حکومت نے کامپلکس کی تکمیل پر کوئی توجہ نہیں دی۔ الیکشن سے عین قبل 23 کروڑ روپئے مختص کرتے ہوئے نارتھ بلاک کا نام دیا گیا اور سنگ بنیاد کی تقریب منعقد کی گئی۔ ایک ہی عمارت کے کاموں کا 14 سال کے وقفہ کے بعد دوبارہ آغاز باعث حیرت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کامپلکس کے نام کو تبدیل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ حکومت کو زیر تعمیر کامپلکس کی تکمیل سے زیادہ کریڈیٹ حاصل کرنے کی فکر ہے لہذا نام تبدیل کرتے ہوئے دوبارہ سنگ بنیاد کی تقریر منعقد ہوئی اور بی آر ایس حکومت کی تختی لگائی گئی تاکہ پراجکٹ کی تکمیل کا سہرا اپنے سر باندھا جائے۔ اسی طرح درگاہ حضرت جہانگیر پیراں ؒ کے ترقیاتی کاموںکا 9 اکٹوبر کو وزیر داخلہ محمود علی نے سنگ بنیاد رکھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 11 نومبر 2017 کو چیف منسٹر کے سی آر نے درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ پر حاضری دی اور منت کی تکمیل پر 50 بکروں کی نیاز کرتے ہوئے 50 کروڑ کے صرفہ سے ترقیاتی منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ چیف منسٹر نے درگاہ کی 27 ایکر اور متصل 70 ایکر سرکاری اراضی جملہ 100 ایکر پر ترقیاتی منصوبہ کا اعلان کیا تھا۔ ایک سال میں پراجکٹ کی تکمیل کا اعلان کیا گیا لیکن چھ سال بعد وزیر داخلہ نے دوبارہ سنگ بنیاد رکھا۔ گذشتہ چھ برسوں میں ترقیاتی کام ٹھپ رہے اور ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی۔ انتخابات سے عین قبل بلکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن شیڈول کی اجرائی سے ایک گھنٹہ قبل دوبارہ سنگ بنیاد رکھا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے دورہ کے موقع پر نصب کیا گیا کتبہ ہٹادیا گیا اور نیا کتبہ نصب کیا گیا تاکہ گذشتہ چھ برسوں کی تاخیر کو چھپایا جاسکے۔ مقامی افراد کی جانب سے اراضی کے حصول کی مخالفت کی جارہی ہے اور درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ کے ترقیاتی منصوبہ پر آئندہ چند برسوں تک عمل آوری ممکن نظر نہیں آتی۔ کے سی آر حکومت نے اسلامک سنٹر اور اجمیر میں رباط کی تعمیر کا اعلان کیا تھا لیکن یہ دونوں کام آج تک شروع نہیں کئے جاسکے۔ حکومت کو اس بارے میں مسلمانوں سے وضاحت کرنی چاہیئے۔ پہلے سے سنگ بنیاد رکھے گئے پراجکٹس کا دوبارہ سنگ بنیاد نہ صرف عوام بلکہ عہدیداروں میں مذاق کا موضوع بن چکا ہے۔