ووہان میں پھنسے پاکستانیوں کو لانے فیملیوں کا بدستور تقاضہ

,

   

٭ چینی قاصد لی بیجیان نے کہا کہ پاکستان نے چین کے صوبہ ہوبئی سے زائد از 1000 پاکستانی طلبہ کا تخلیہ نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے جو ہمارے لئے بالواسطہ راحت کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مختلف ممالک چین میں کورونا وائرس کی وباء پھوٹ پڑنے کے سبب چینی سرزمین سے دوری اختیار کررہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان نے اپنے اسٹوڈنٹس کو فوری طور پر وطن واپس نہ بلانے کا فیصلہ کیا۔ لی نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ اچھا فیصلہ ہے۔ تاہم پاکستان میں چین میں زیرتعلیم طلبہ کے رشتہ دار اور لواحقین اپنے متعلقین کی صحت و سلامتی کے تعلق سے مسلسل فکرمند ہیں۔ وہ حکومت پاکستان سے مسلسل مطالبہ کررہے ہیں کہ چین سے طلبہ کو واپس لائیں۔ لی نے وضاحت کی کہ پاکستانی طلبہ کا تخلیہ پاکستان کیلئے صحت کے معاملہ میں بڑا جوکھم ثابت ہوسکتا ہے۔ پاکستانی طلبہ کی واپسی کی صورت میں ان کیلئے وطن میں بڑے پیمانے پر سہولیات درکار ہوں گی کہ ان کو الگ تھلگ رکھتے ہوئے طبی نگرانی کی جاسکے۔ اس کے عالوہ متاثرہ شہر ووہان سے واپس ہونے والے اسٹوڈنٹس کے ذریعہ پاکستان میں کورونا وائرس پھیل جانے کا بھی قوی اندیشہ ہے۔