ویشویشور ریڈی اور انجن کمار یادو نے بی جے پی میں شمولیت کی تردید کی

   

تلنگانہ میں کانگریس کیلئے بہتر مواقع، عوام حکومت سے ناراض، سابق رکن پارلیمنٹ کا تاثر
حیدرآباد : بلدی انتخابات میں بہتر مظاہرہ کے بعد بی جے پی میں کانگریس کے کئی اہم قائدین کی شمولیت کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ اور فلم اسٹار وجئے شانتی نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی جس کے بعد کئی سینئر قائدین کے نام میڈیا میں گشت کررہے ہیں۔ اسمبلی میں سابق اپوزیشن لیڈر جانا ریڈی، سابق رکن پارلیمنٹ کونڈا ویشویشور ریڈی اور صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس انجن کمار یادو کی شمولیت کے بارے میں میڈیا میں خبروں کے عام ہوتے ہی مذکورہ تینوں قائدین نے اطلاعات کو مسترد کردیا۔ جانا ریڈی علاج کے سلسلہ میں کیرالا میں تھے، آج شام حیدرآباد واپس ہوئے اور وہ منگل کو سینئر کانگریس قائدین سے ملاقات کریں گے۔ حلقہ اسمبلی ناگر جنا ساگر کے ضمنی چناؤ کے سلسلہ میں حکمت عملی طے کی جائے گی۔ اِسی دوران ویشویشور ریڈی نے بی جے پی میں شمولیت کی اطلاعات کو مسترد کردیا اور کہاکہ وہ کانگریس میں بدستور برقرار ہیں اور پارٹی کو مستحکم کرنے رنگاریڈی اور وقارآباد میں سرگرم ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ دوباک اور گریٹر حیدرآباد چناؤ میں مخالف کے سی آر ووٹ حاصل کرنے میں بی جے پی کامیاب رہی ۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس کے بارے میں غلط پروپگنڈہ اُسے نقصان کا سبب بنا۔ دوباک میں ہر موضع میں عوام کا موقف حکومت کے خلاف تھا لیکن وہ متبادل کے طور پر بی جے پی کو قبول کررہے تھے۔ ویشویشور ریڈی نے کہاکہ بی جے پی مضبوط پارٹی ہے اور وہ کے سی آر کا بہ آسانی مقابلہ کرسکتی ہے۔ مرکز میں اقتدار بی جے پی کیلئے عوام کی تائید کے حصول میں مددگار ہے۔ کانگریس کیلئے ریاست تلنگانہ میں بہتر مواقع ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کوئی کانگریس سینئر قائد بی جے پی میں شامل نہیں ہونگے۔ اُنھوں نے کہاکہ ٹی آر ایس و بی جے پی میں شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ اندرون ہفتہ نئے صدر پردیش کانگریس کا تقرر کیا جائیگا۔ اِس کیلئے ریونت ریڈی، وینکٹ ریڈی و سریدھر بابو کے نام زیرگشت ہیں۔ اُن کی نظر میں ریونت ریڈی زیادہ مقبول و متحرک ہیں۔ اُنھوں نے کانگریس کی شکست کیلئے میڈیا کو ذمہ دار قرار دیا اور کہاکہ ٹی آر ایس حامی میڈیا کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اسی دوران انجن کمار یادو نے بھی بی جے پی میں شمولیت کی اطلاعات کو مسترد کردیا۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ تاحیات کانگریس میں برقرار رہیں گے اور حامیوں کو اطلاعات پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں۔