وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے بند سے میرا تعلق نہیں ‘جگتیال کے معطل سب انسپکٹر کا بیان

,

   

حیدرآباد۔/12مئی، ( سیاست نیوز) مسلم لڑکی کو طمانچہ رسید کرنے والے سب انسپکٹر پولیس کی معطلی کے بعد اس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے والی وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو اس وقت دھکہ لگا جب معطل سب انسپکٹر نے بند کی اپیل کو ذاتی اور سیاسی مفاد قرار دیا۔ یاد رہے کہ 13 مئی کو بجرنگ دل اور وی ایچ پی نے جگتیال بند کا اعلان کیا اور ہندو خاتون کی رسوائی اور سب انسپکٹر کے خلاف کارروائی کو یکطرفہ کارروائی قرار دیا۔ بند کے پیش نظر جگتیال میں پولیس نے سخت چوکسی اختیار کرلی ۔ آج سب انسپکٹر انیل کمار نے سوشیل میڈیا پر ویڈیو پیام جاری کرکے بند سے خود کو لاتعلق قرار دیا اور کہا کہ اس معاملہ کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفاد پرست طاقتیں معاملہ کو فرقہ وارانہ و سیاسی رنگ دے رہی ہیں ۔ معطل سب انسپکٹر کہنا ہے کہ ان کے خلاف جو کارروائی ہوتی ہے وہ اس کا سامنا کرنے تیار ہیں لیکن اس کے بعد حالات سے وہ تعلق نہیں رکھتے اور انہیں اور ان کے خاندان کو استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ معطل سب انسپکٹر انیل کمار کے اس بیان کے بعد وی ایچ پی اور بجرنگ دل کی نیند اُڑ گئی اور ان کی کوششوں پر پانی پھر گیا، جس میں مسلم برقعہ پوش لڑکی کو طمانچہ معاملہ میں ایک اور پہلو منظر عام پر آیا ہے جس سے ریاست کی اقلیتوں میں تشویش ہے۔ پولیس نے احتجاجی مسلمانوں کے خلاف اور سب انسپکٹر کی بیوی کی شکایت پر متاثرہ ماں اور بیٹی کے خلاف بھی مقدمات درج کئے ہیں۔ع

جگتیال سب انسپکٹر کو زعفرانی تنظیموں کی تائید
وی ایچ پی اور بجرنگ دل کا آج جگتیال بند ، پولیس کی سخت چوکسی
حیدرآباد۔12۔مئی (سیاست نیوز) جگتیال میں برقعہ پوش لڑکی اور اس کی والدہ کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے سب انسپکٹر کی معطلی کے بعد بی جے پی و سنگھ پریوار کی تنظیمیں میدان میں آچکی ہیں۔ آر ٹی سی بس کو روک کر ماں اور بیٹی پر حملہ کرنے والے سب انسپکٹر انیل کمار کے خلاف عوامی احتجاج کے بعد کل معطل کیا گیا تھا ۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے کھل کر سب انسپکٹر کی تائید کی اور حکومت پر الزام عائد کیا کہ مجلس کے دباؤ کے تحت سب انسپکٹر انیل کو معطل کردیا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ فرضی اور جھوٹی کہانی کی بنیاد پر شکایت درج کرائی گئی ، حالانکہ سب انسپکٹر نے حملہ نہیں کیا۔ ڈی اروند نے اعلیٰ عہدیداروں سے ربط کرکے معطلی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے کل 13 مئی کو جگتیال بند منانے کا اعلان کیا ۔ زعفرانی تنظیموں نے سب انسپکٹر انیل کی معطلی ختم کرنے کے مطالبہ کے تحت ضلع بند منانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلہ میں ایک پوسٹر جاری کیا گیا جس میں سب انسپکٹر کی بحالی کی مانگ کی گئی ہے۔ مسلمانوں کے احتجاج کے بعد زعفرانی تنظیمیں بھی جگتیال میں متحرک ہوچکی ہیں۔ اسی دوران ضلع نظم و نسق کو حیدرآباد سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بند کے دوران سخت چوکسی اختیار کرے اور کسی بھی صورت میں امن و ضبط کی صورتحال کو بگڑنے سے بچایا جائے ۔ فرقہ وارانہ طاقتوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ر