ٹرمپ ایران سے نکلنا چاہتے ہیں، مگر رکاوٹ کیا ہے؟

   

اسلام آباد،13 مارچ (یو این آئی) ٹرمپ ایران جنگ سے نکلنا چاہتے ہیں مگر وہ نکل نہیں پا رہے ہیں جس کی اہم وجہ سامنے آ گئی ہے ۔ ایران جنگ کے 12 روز کے دوران اخراجات کے باعث امریکی معیشت کو بڑا نقصان ہو رہا ہے جب کہ تیل کی ترسیل رکنے سے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جب کہ جنگ جلد ختم ہونے کے کوئی امکانات فی الحال نظر نہیں آ رہے ۔ ایران جنگ کے حوالے سے ہی اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سابق مندوب منیر اکرم نے کہا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی فرمائش پر ایران کے خلاف جنگ تو شروع کر دی، لیکن پہلے دن سے ان کے مقاصد واضح نہیں اور ایک کنفیوژن نظر آ رہا ہے ۔ منیر اکرم نے کہا کہ جنگ کے آغاز سے قبل ٹرمپ کا واضح مقصد سامنے نہیں تھا کہ آیا وہ ایران میں رجیم چینج چاہتے ہیں یا ایران کے نیوکلیئر اور میزائل پروگرام کی تباہی چاہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ بھی یہ جانتے ہیں کہ جنگ جتنی جاری رہتی ہے ، اس کے اخراجات بڑھتے جائیں گے جب کہ تیل کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے کہ جب کہ ایران پر حملے کے خلاف امریکہ کے اندر مخالفت بڑھ رہی ہے ۔ منیر اکرم نے کہا کہ ٹرمپ بھی چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی یہ جنگ ختم ہو تو ان کیلئے بہتر ہوگا، مگر انہیں ایسا فریم نہیں مل رہا، کہ وہ کیا کہہ کر جنگ سے نکلیں یا جنگ ختم کریں۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ ٹرمپ کیا کہہ کر ابھی جنگ سے باہر آ سکتے ہیں۔ اگر وہ کہیں کہ ہماری جیت ہو گئی تو کیا حاصل کیا؟ یہ سوال کھڑا ہوتا ہے ۔ اگر وہ نیوکلیئر پروگرام تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس کا کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں۔ منیر اکرم نے کہا کہ ٹرمپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے ایران کا میزائل پروگرام تباہ کر دیا، کیونکہ ایران سے ہر روز میزائل اور ڈرونز آ رہے ہیں جب کہ وہاں رجیم چینج بھی نہیں ہوئی، وہی سخت گیر قیادت موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرمپ جنگ سے باہر نکلنا چاہتے ہیں تو انہیں اس کیلئے کوئی نہ کوئی بہانہ جلد ڈھونڈنا ہوگا۔