ٹرمپ کا اردغان کو انتباہ

,

   

Ferty9 Clinic

٭ واشنگٹن : وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردغان کو 9 اکتوبر کو ایک مکتوب بھیجا گیا تھا جس میں انہیں شمالی شام میں کردوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کے فیصلے سے باز آنے کو کہا گیا تھا۔ اس مکتوب میں صدر ٹرمپ نے اردغان کو خبر دار کیا تھا کہ شام میں ترکی کی فوجی کارروائی بہت بڑی حماقت ہوگی جو انقرہ کی معیشت کو تباہ کردے گی۔وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری مکتوب میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ترک ہم منصب کو لکھا ہے کہ ‘محترم صدر: آئیے ایک اچھے معاہدے پر کام کریں! آپ ہزاروں افراد کے قتل کے ذمہ دار نہیں بننا چاہتے اور میں ترکی کی معیشت کی تباہی کا ذمہ دار نہیں بننا چاہتا اور میں یہ سب کروں گا۔ پادری برونسن کے حوالے سے میں نے پہلے ہی آپ کو ایک چھوٹا سا نمونہ دیا تھا’۔میں نے آپ کے کچھ مسائل حل کرنے کے لیے سخت محنت کی۔ دنیا کو مایوس نہ کریں۔ آپ بہت کچھ کرسکتے ہیں۔

ترکی کیلئے جرمن اسلحے کی فروخت 14 برس کی بلند ترین سطح پر
برلن ۔ 17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) رواں برس جرمنی نے ترکی کو گزشتہ 14 برس کے مقابلے میں سب سے زیادہ اسلحہ فراہم کیا ہے۔ اس اسلحے کی مالیت 250 ملین یورو سے زائد بنتی ہے۔رواں برس کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران جرمنی کی طرف سے ترکی کو برآمد کیے گئے اسلحے کی مالیت گزشتہ 14 برس کے دوران سب سے زیادہ رہی۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس برس اب تک ترکی کو 250.4 ملین یورو مالیت کا اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ اعداد وشمار ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب ترک حکومت کی طرف شام کے شمالی حصے میں کارروائی کے سبب جرمنی نے ترکی کو اسلحے کی فروخت پر نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شام پر فوج کشی کیلئے کوئی اشارہ نہیں دیا گیا : ٹرمپ
کرد شورش پسند دولت اسلامیہ سے بھی زیادہ خطرناک
واشنگٹن ۔ 17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج ان قیاس آرائیوں کی تردید کی کہ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردغان کو شام میں کرد ملیشیا کے خلاف فوجی اقدامات کرنے کیلئے ہری جھنڈی دکھائی ہے۔ ٹرمپ نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اردغان کے فیصلہ سے انہیں (ٹرمپ) بالکل حیرت نہیں ہوئی کیونکہ اردغان عرصہ دراز سے یہی چاہتے تھے اور اسی وجہ سے وہ شام کی سرحد کے قریب فوجیوں کی تعداد میں زبردست اضافہ کررہے تھے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اردغان کو اس معاملہ میں پیشرفت کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے۔ قبل ازیں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ کرد باغیوں نے کئی دہوں سے شورش پسندی کو جو سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اس کے بعد یہ کہنا پڑتا ہیکہ وہ دولت اسلامیہ گروپ سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ پی کے کے جو کردوں کا ہی حصہ ہے وہ ایک دو نہیں بلکہ کئی معاملات میں دولت اسلامیہ سے زیادہ خطرناک ہیں ۔