بائیڈن کی کامیابی پر ہنوز تحفظات، ری پبلکن سینیٹر کا کانگریس میں مباحث کا مطالبہ
واشنگٹن: مائیک پینس نے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کی جیت کے پارلیمنٹ کے سرٹیفکیٹ کو کالعدم قرار دینے کے لئے قانونی کارکن لوئس گوہارٹ کیزیر قیادت شروع کئے گئے اقدام کی حمایت کرنے سے انکار کردیا ہے۔سال 2020 کے امریکی انتخابات ہمیشہ یاد رہیں گیاور انہیں کسی اچھے کے لئے یاد نہیں رکھا جائے گا بلکہ ان کو صدر ٹرمپ کی شکست نہ قبول کرنیکے رویہ کے لئے زیادہ یاد رکھا جائے گا۔ صدر ٹرمپ انتخابات سے قبل اور نتائج آنے کے بعد بھی اس بات کو ماننے کیلئیتیار نہیں ہیں کہ وہ ہار بھی سکتے ہیں اور ابھی بھی ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ان انتخابی نتائج کو کسی طرح غلط اور غیرقانونی قرار دلادیں۔دوسری جانب ان کوبڑا جھٹکا اس وقت لگا جب سبکدوش ہونے والے امریکی نائب صدر مائیک پینس نے صدارتی انتخاب میں جو بائیڈن کی جیت کے پارلیمنٹ کے سرٹیفکیٹ کو کالعدم قرار دینے کے لئے قانونی کارکن لوئس گوہارٹ کیزیر قیادت شروع کئے گئے قدام کی حمایت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ مسٹر گوہارٹ اور ریاست ایریزونا سے تعلق رکھنے والے 11 ووٹروں نے عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں یہ دعوی کیا گیا کہ صرف پینس کو ان ووٹروں کا تعین کرنے کا حق ہونا چاہئے جن کے ووٹ کانگریس کو جائیں گے۔ پینس کے خلاف منگل کو دائر ایک نئے مقدمے میں استغاثہ نے کہا کہ انہوں نے قانونی چارہ جوئی کے بغیر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی جس کے بعد عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔استغاثہ کے وکیل نے معاہدے کے ذریعہ قانونی مسائل کو حل کرنے کی ایک مثبت کوشش قرار دیا جس میں نائب صدر کے وکیل کو مشورہ دینا بھی شامل تھا۔ یہ کوشش حالانکہ ناکام رہی جس کے بعد مقدمہ دائر کیا گیا۔ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر جوش ہالی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے کانگریس میں الیکٹورل کالج سے بائیڈن کی کامیابی کی تصدیق پر اعتراض اْٹھائیں گے۔تجزیہ کار ری پبلکن رْکنِ سینیٹ کے اس اعلان کو جو بائیڈن کی کامیابی پر اعتراض اْٹھانے کی آخری ناکام کوشش قرار دے رہے ہیں تاہم اس اقدام سے واشنگٹن کے سیاسی ماحول میں گرما گرمی ہو سکتی ہے۔ہالی سے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان کے رْکن مو بروکس بھی کانگریس میں الیکٹورل کالج ووٹنگ کی تصدیق کے عمل میں اعتراض اْٹھانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ریاست میزوری سے پہلی بار رْکن سینیٹ منتخب ہونے والے 40 سالہ جوش ہالی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ الیکٹورل کالج کے ایسے نتائج کی تصدیق نہیں کر سکتے جہاں بشمول پینسلوینیا بعض ریاستوں نے اپنے ہی وضع کردہ انتخابی قوانین پر عمل نہیں کیا۔جوش ہالی نے مطالبہ کیا ہے کہ کانگریس کو ووٹنگ فراڈ کے الزامات کا جائزہ لے کر انتخابات کی ساکھ کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔خیال رہے کہ الیکٹورل کالج کے بعد امریکی کانگریس کے دونوں ایوان چھ جنوری کو نو منتخب صدر جو بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کریں گے جس کے بعد عملاً 20 جنوری کو اْن کے حلف اْٹھانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دْور ہو جائیں گی۔بائیڈن کی نامزد کردہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی کا کہنا ہے کہ کسی انہونی کے بغیر بائیڈن ہی 20 جنوری کو صدارت کا حلف اْٹھائیں گے۔