ٹرمپ کو عدالتوں سے راحت نہ ملی ، بائیڈن فتح کے قریب

,

   

انتخابی دھاندلی کے دعوے مسترد ، ڈیموکریٹ بائیڈن کو کلیدی ریاست جارجیا میں بھی سبقت

واشنگٹن : امریکی صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جوبائیڈن اپنی فتح سے صرف 6 الیکٹورل ووٹ کی دوری پر ہیں اور اب تمام ترنگاہیں 4 ریاستوں کے نتائج پر جمی ہیں جب کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی ٹوئٹس میں انتخابی عمل پر سنگین اعتراضات کیے ہیں۔امریکی عدالتوں نے ٹرمپ کی ٹیم کے مشیگن اور جارجیا میں دائر کردہ مقدمات کو خارج کردیا ہے ۔ یہ مقدمات انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے دائر کئے گئے تھے اور عدالتوں سے درخواست کی گئی تھی کہ ووٹوں کی گنتی روک دی جائے ۔ تاہم عدالتوں نے ٹرمپ کی ٹیم کے دعوؤں کو قبول نہیں کیا اور درخواستیں مسترد کردیئے ۔ دریں اثناء پینسلوینیا، جارجیا ، نیواڈا اور نارتھ کیرولینا میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور بائیڈن کو نیواڈا میں ہی 6 الیکٹورل ووٹ مل جاتے ہیں تو وہ کامیابی کے لیے مطلوبہ اکثریت (270)حاصل کرلیں گے کیونکہ انہیں موجودہ طور پر 264 الیکٹورل ووٹ حاصل ہوچکے ہیں ۔ اس کے برخلاف صدر ٹرمپ کو 214 ووٹ ملے ہیں۔ انتخابات میں ڈالے گئے تقریباً 14 کروڑ ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے جو خود امریکی تاریخ میں صدارتی انتخاب کے دوران ڈالے گئے ووٹوں کی سب سے زیادہ تعداد بھی ہے۔ امریکہ میں ووٹروں کی مجموعی تعداد تقریباً 24 کروڑ ہے۔ 2016ء کے صدارتی انتخاب میں، جس کے نتیجے میں ٹرمپ امریکی صدر بنے تھے، 59.2 فیصد امریکی ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔ اب تک کی گنتی کے مطابق یہ شرح 60 فیصد کے قریب پہنچ رہی ہے اور بعض سیاسی مبصرین نے یہاں تک پیش قیاسی کردی ہے کہ یہ شرح 65 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔فی الحال 538 الیکٹورل ووٹ میں سے 264 الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار بائیڈن فیصلہ کن فتح کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ امریکہ میں صدارتی امیدوار کی حتمی فتح کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ 270 یا زیادہ الیکٹورل ووٹ حاصل کریں۔دوسری جانب موجودہ صدر اور ری پبلکن امیدوار ٹرمپ 214 الیکٹورل ووٹ حاصل کرسکے ہیں۔ اب ان کی جیت کا مکمل دار و مدار سوئنگ اسٹیٹس پر ہے۔ البتہ امریکی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ کو سوئنگ اسٹیٹس سے بھی تمام الیکٹورل ووٹس مل جائیں تب بھی وہ مجموعی طور پر 268 الیکٹورل ووٹ ہی حاصل کرپائیں گے۔