ٹرمپ کے جھوٹ پر جھوٹ ۔کئی امریکی چینلس نے کوریج روک دیا

,

   

صدارتی انتخاب کا سرقہ کرلینے کے بے بنیاد الزامات پر حیرانگی، میڈیا شخصیتوں نے ٹرمپ پر تنقید کی

واشنگٹن: اے بی سی، سی بی ایس اور این بی سی کے بشمول متعدد امریکی ٹی وی نیٹ ورکس نے کل دیررات صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مابعد انتخابات عوام سے خطاب کے لائیوکوریج کو یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے روک دیا کہ صدر غلط اطلاعات عام کر رہے ہیں۔ ٹرمپ 17منٹ کے اپنے خطاب میں بھڑکانے اور بے بنیاد دعووں کا سیلاب لے آئے تھے ۔ وہ مسلسل اس بات پر مُصر تھے کہ ڈیموکریٹس ہم (ریپبلکنس) سے الیکشن چوری کرنے کے لئے ’’غیر قانونی ووٹ‘‘ استعمال کررہے ہیں۔ صدر امریکہ نے یہ باتیں اس وقت کہیں جب انتخابی سیاست کے اعتبار سے کلیدی ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کے آخری مرحلے میں جو بائیڈن کامیابی کے ساتھ مستقل طور پر آگے بڑھتے نظر آئے۔ ایم ایس این بی سی کے اینکر برائن ولیمز نے کہا کہ ٹھیک ہے ، یہاں ہم ایک بار پھر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر کو نہ صرف روکنے بلکہ ان کی اصلاح کرنے کی غیر معمولی صورتحال میں پہنچ گئے ہیں۔اسی کے ساتھ نیٹ ورک نے جلدی سے اپنی براہ راست کوریج کو ختم کردیا۔ این بی سی اور اے بی سی نیوز نے بھی ٹرمپ کی کوریج کا اختتام کردیا ۔سی این این کے جیک ٹیپر نے کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کیلئے یہ رات کتنی افسوسناک ہے جس میں لوگ اپنے صدر کو عوام پر انتخابی چوری کرنے کی کوشش کرنے کا جھوٹا الزام لگاتے سن رہے ہیں۔انہوں نے اس کو صدر کی طرف سے بلا ثبوت انتخابی چوری کے حوالے سے جھوٹ پر جھوٹ بولنے سے تعبیر کیا۔ تاہم، فاکس نیوز چینل اور سی این این نے صدر کا مکمل خطاب ٹیلی کاسٹ کیا جس کے بعد سی این این کے اینڈرسن کوپر نے کہا کہ ٹرمپ بلاشبہ شکست خوردہ امیدوار نظر آئے۔ الیکٹرانک میڈیا کی متعدد شخصیتوں کو ٹرمپ پر شدید تنقیدیں کرتے سنا گیا جبکہ موجودہ صدر نے غصے سے بھرے اپنے خطاب میں بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی والے ان کے ووٹ چوری کررہے ہیں۔ اے بی سی نے جب اپنا کوریج قبل از وقت ختم کردیا ، اس کے بعد اس نیٹ ورک کے وائیٹ ہاؤس نمائندہ جوناتھن کارل نے بھی کہا کہ غیرقانونی ووٹوں کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔