ٹمل ناڈو کے مندروں میں گوشت پھینک کر فرقہ وارانہ تشدد برپا کرنے کی سازش کی مذمت، جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ کا بیان

   

حیدرآباد ۔ 3 ۔ جون : ( پریس نوٹ ) : ٹمل ناڈو کے شہر کوئمبتور کے سری وینو گوپال کرشنا سوامی مندر اور سری رگھویندر مندر میں گوشت پھینکنے کے واقعہ کی پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت جناب سید جلیل احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ سنگھ پریوار کی اس گھناونی سازش کی مذمت کی ہے ۔ یہ واقعہ چار دن قبل پیش آیا تھا ۔ انہوں نے تمل ناڈو پولیس کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے گوشت پھینکنے والے شخص کا پتہ چلا لیا اور اس کے نام کا اعلان کرتے ہوئے نہ صرف ریاست ٹمل ناڈو بلکہ سارے ملک کے ماحول کو پراگندہ کرنے سے بچالیا ۔ جناب سید جلیل احمد نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت جب کہ ملک کو مختلف بے شمار مسائل کا سامنا ہے اس واقعہ کا ارتکاب کرنا قوم دشمنی کے سوائے کچھ اور نہیں ہے یہ کام کرنے والے اور اس کی سازش کرنے والے صحیح معنی میں دیش دروہی ہیں ۔ ملک پہلے سے ہی کورونا کی وباء کا سامنا کررہی ہے ۔ مشرقی ساحل پر طوفان امپھان نے تباہی مچادی ہے اور مغربی ساحل پر مزید ایک اور طوفان کا سامنا ہے ۔ سرحدوں پر چین اور پاکستان کے ساتھ سخت کشیدگی کا ماحول ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں ٹڈی دل نے تباہی مچادی ہے ۔ شمالی ہند کے میدانی علاقوں میں آندھیوں کے جھکڑچل رہے ہیں ۔ معیشت کی صورتحال ابتر ہوچکی ہے ۔ سنگھ پریوار اور حکومت نے کورونا وبا کے لیے تبلیغی جماعت اور مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف نفرت و حقارت کا ایسا بدترین ماحول پیدا کردیا ہے جو ہندوستان کے مزاج کے خلاف ہے ۔ اس کے بعد اب سنگھ پریوار مندروں میں گوشت پھینک کر فضا میں زہر گھولنے کی سازش تیار کی اور اس پر عمل بھی کردیا ۔ قریب تھا کہ یہ لوگ اپنی سازش کے مطابق تشدد شروع کردیتے عین وقت پر ٹمل ناڈو پولیس نے جرات مندانہ کارروائی کرتے ہوئے حقیقی مجرم کو پکڑ لیا ۔ جو 45 سالہ سیول انجینئر ہے ۔ جناب سید جلیل احمد نے کہا کہ ملک کے مشکل حالات میں پریوار کی ایسی سازشوں کا مقصد سوائے ملک میں بدامنی پیدا کرنے اور ملک کو مزید مشکلات میں ڈالنے کے اور کیا ہوسکتا ہے ۔ یہ پہلا موقعہ نہیں ہے کہ جنوبی ہند میں ایسا واقعہ پیش آیا ہو ۔ دو ماہ قبل بھی کیرالا کے مندروں میں بھی گوشت ڈالنے کے واقعات پیش آئے اور ان واقعات کا ارتکاب بی جے پی کے کارکنوں نے ہی کیا تھا ۔۔