ٹوئیٹر پر کویتا اور کے ٹی آر سے ریونت ریڈی کی لفظی جنگ

   

تلنگانہ کی اسکیمات کا حوالہ ، راہول گاندھی کے دورہ پر اعتراضات کا جواب

حیدرآباد۔6۔ مئی (سیاست نیوز) کانگریس قائد راہول گاندھی کے دورہ تلنگانہ پر کانگریس اور ٹی آر ایس کے درمیان ٹوئیٹر پر لفظی جنگ جاری ہے۔ دورہ کی مخالفت میں کے ٹی آر اور کویتا کے ٹوئیٹ کا صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے جواب دیا۔ تینوں قائدین آج ٹوئیٹر پر کافی سرگرم دکھائی دیئے ۔ کے ٹی آر اور کویتا نے کسانوں کے حق میں کانگریس کی پالیسی اور تلنگانہ میں دورہ کے مقاصد کے بارے میں سوالات کئے۔ ریونت ریڈی نے بھی دونوں قائدین کو کرارا جواب دیتے ہوئے مرکزی حکومت کے ساتھ خفیہ مفاہمت اور تلنگانہ میں کسانوں کے مسائل کا ذکر کیا۔ کویتا نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ملک میں کسی بھی ریاست میں اس قدر فلاحی اسکیمات پر عمل آوری نہیں ہے جس قدر تلنگانہ میں ہے۔ اس حقیقت کو جاننے کیلئے راہول گاندھی کا تلنگانہ میں خیرمقدم ہے۔ کویتا نے راہول گاندھی سے سوال کیا کہ پارلیمنٹ میں تلنگانہ کے مسائل پر کتنی مرتبہ آواز اٹھائی گئی۔ تلنگانہ کے جائز حقوق کے لئے پارلیمنٹ میں کانگریس نے کب آواز اٹھائی تھی۔ ریونت ریڈی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ معلومات کے بغیر سوال کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ جس وقت پارلیمنٹ میں مخالف کسان قانون سازی کی گئی ، اس وقت ٹی آر ایس نے تائید کی۔ ریونت ریڈی نے کسانوں سے دھان کی خریدی کے مسئلہ پر کے سی آر حکومت کے موقف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ کے ٹی آر نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ ٹی آر ایس حکومت کسانوں کی بھلائی کے اقدامات میں دوسری ریاستوں سے آگے ہیں۔ کانگریس زیر اقتدار ریاستوں میں کسانوں کی بھلائی کو نظرانداز کرنے کی شکایت کی۔ انہوں نے راہول گاندھی کو تلنگانہ حکومت کی اسکیمات کا جائزہ لینے کا مشورہ دیا جس کے جواب میں ریونت ریڈی نے کہا کہ آپ کی حکومت کے اس معاملہ کا جائزہ لیا جائے۔ حکومت نے کسانوں سے قرض معافی کا وعدہ کیا تھا۔ کسانوں کو کھاد کی مفت سربراہی کا وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کسانوں کی ابتر صورتحال کے بارے میں اظہار خیال کے لئے راہول گاندھی تلنگانہ کا دورہ کر رہے ہیں۔ کویتا نے راہول گاندھی کو کسانوں سے متعلق امور پر محاسبہ کرنے اور پارلیمنٹ میں تلنگانہ سے متعلق امور کو موضوع بحث لانے کے بارے میں سوال کیا جبکہ کے ٹی آر نے کانگریس زیر اقتدار ریاستوں میں کسانوں کی صورتحال کا حوالہ دیا۔ ٹوئیٹر پر دونوں پارٹیوں کی یہ لفظی جنگ سیاسی حلقوں میں کافی موضوع بحث رہی۔ ر