ٹکنالوجی کے غیر محتاط استعمال پر سنگین منفی اثرات کا خدشہ

   

سائبر جرائم کے سدباب کیلئے شعور بیداری ناگزیر، تلنگانہ یونیورسٹی نظام آباد میں معلوماتی ورکشاپ، مختلف شخصیتوں کا خطاب
نظام آباد۔ 27 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) پریس انفارمیشن بیورو حیدرآباد بہ تعاون تلنگانہ یونیورسٹی، نظام آباد ’’سائبر ہائجین پریکٹسس‘‘ کے عنوان پر معلوماتی ورکشاپ کا یونیورسٹی کیمپس ڈچپلی نظام آباد میں انعقاد عمل میں آیا جس کا بنیادی مقصد طلبہ اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں میں محفوظ اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل طرزِ عمل کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا۔ تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے رجسٹرار پروفیسر ایم یادگیری نے کہا کہ موجودہ دور میں سائبر جرائم میں تیزی سے اضافہ ایک تشویشناک رجحان ہے جس کے سدباب کے لیے طلبہ، نوجوانوں اور تعلیمی اداروں کو اپنی ذمہ داریوں کا سنجیدگی سے ادراک کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جامعات نہ صرف تعلیم کے مراکز ہیں بلکہ سماجی شعور کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں، خصوصاً ایسے حساس موضوعات پر ان کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے ”سائبر ہائجین” کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد کمپیوٹر، موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال میں احتیاط، ذمہ داری اور شعور کا مظاہرہ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی ترقی کا ایک اہم ذریعہ ہے تاہم اس کے غیر محتاط استعمال کے نتیجے میں سنگین منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں اس لیے محفوظ ڈیجیٹل عادات کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر پریس انفارمیشن بیورو حیدرآباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر مانس کرشن کانت نے اپنے خطاب میں بتایا کہ یہ پروگرام ایک منفرد ہائبرڈ ماڈل پر مبنی ہے جس میں طلبہ اور میڈیا نمائندگان کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے۔ سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے نظام آباد کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس وائی وینکٹیشور راؤ نے انکشاف کیا کہ ملک میں سالانہ تقریباً 60 ہزار کروڑ روپے کے سائبر فراڈ کے معاملات رپورٹ ہو رہے ہیںجبکہ ریاست تلنگانہ میں گزشتہ برس قریب 1600 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی درج کی گئی۔ ضلع نظام آباد کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ سال 2024 میں 16 لاکھ اور 2025 میں 19 لاکھ روپے کے سائبر فراڈ کے کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تعلیم یافتہ افراد بھی ان جرائم کا نشانہ بن رہے ہیں، لہٰذا بینک کھاتوں کی معلومات کسی کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں، مشتبہ لین دین سے محتاط رہیں، اور بیرونِ ملک ملازمت کے نام پر ہونے والی ”سائبر غلامی” جیسے جرائم سے ہوشیار رہیں۔ورکشاپ میں پروفیسر رام بابو ڈائریکٹر و پرنسپل آرٹس کالج، ڈاکٹر این سوامی اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ انگریزی، جی کوٹیشور راؤ اسسٹنٹ ڈائریکٹر، شیوچرن ریڈی فیلڈ پبلسٹی آفیسر، پی آئی بی حیدرآباد، ڈاکٹر محمد عبدالقوی صدر شعبہ اردو و ڈائریکٹر مائنارٹی سیل، پروفیسر جی چندر شیکھر اور پروفیسر انجینیلو سمیت متعدد اساتذہ، عہدیداران اور طلبہ نے شرکت کی۔