بی جے پی اور کانگریس کے قائدین سیاسی سیاح ۔ حکومت پر تنقیدنہیں عام مباحث کا چیلنج
حیدرآباد : 10 جنوری ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس ورکنگ صدر کے ٹی آر نے ٹی آر ایس اور این ڈی اے کی نئی اصطلاح پیش کرتے ہوئے اس کو ’’تلنگانہ رعیتو سرکار ‘‘ اور مرکزی این ڈی اے کو ’’نو ڈاٹا ایولیبل ‘‘ قرار دیا ۔ سیاسی سیاح تلنگانہ پہنچ کر کسانوں کے مسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہانے کا الزام عائد کیا ۔ آج ٹی آر ایس بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب میں کے ٹی آر نے کانگریس اور بی جے پی قائدین کے تلنگانہ کو پہنچ کر چیف منسٹر اور حکومت پر تنقید اور کسانوں کے مسائل پر مگرمچھ کے آنسو بہانے پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ صرف تنقیدیں کافی نہیں ہے ۔ بی جے پی و کانگریس اقتدار والی ریاستو ں میں زرعی شعبہ کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ، اس پر کھلے عام مباحث کے چیلنج کو قبول کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ رعیتو بندھو اسکیم پر عمل سے کسانوں کے چہروں پر مسکراہٹ آئی ہے ۔ کالیشورم و دیگر پراجکٹس تعمیر کرکے زرعی سرگرمیوں کیلئے کسانوں کو پانی سربراہ کیا ۔ کسانوں کو 24 گھنٹے معیاری و مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ رعیتو بندھو اسکیم کے تحت 64 لاکھ کسانوں کے بینک کھاتو ں میں 50 ہزار کروڑ روپئے جمع کردیئے گئے ہیں ۔ زراعت و اس سے متعلق دوسرے شعبوں پر 2 لاکھ 71 ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں ۔ 3205 کروڑ روپئے رعیتو بیمہ ادا کرکے 70 ہزار کسانوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے ۔ مرکز سے ایک روپیہ تعاون کے بغیر کالیشورم پراجکٹ تعمیر کیا گیا ہے ۔ تاحال 4 لاکھ کسانوں کے قرض معاف کئے گئے ہیں ۔ مرحلہ واری اساس پر مزید قرض معاف کئے جائیں گے ۔ عام انتخابات میں کانگریس نے 2 لاکھ روپئے تک قرض معاف کرنے کا کسانوں سے وعدہ کیا مگر کسانوں نے کانگریس پر نہیں ٹی آر ایس پر اعتبار کرکے دوسری میعاد کیلئے اقتدار حوالے کیا ۔ انہوں نے بی جے پی کے چیف منسٹرس اور قومی قائدین کے علاوہ کانگریس قائدین کی جانب سے حکومت اور چیف منسٹر کو تنقید کا نشانہ بنانے کی مذمت کی ۔ ن