محبوب نگر میں طلباء اور بے روزگار نوجوانوں کا جلسہ، ہزاروں افراد کی شرکت، سینئر قائدین کا خطاب
حیدرآباد۔/12 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے تلنگانہ کے طلباء اور نوجوانوں کو ٹی آر ایس حکومت کے وعدوں کی تکمیل تک جدوجہد جاری رکھنے کا تیقن دیا اور کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے گزشتہ سات برسوں میں تلنگانہ کے طلباء اور نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ محبوب نگر میں پارٹی کی جانب سے طلباء اور بے روزگار نوجوانوں کے جنگ سائرن کا امستا پور میں انعقاد عمل میں آیا۔ اس جلسہ عام میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی اور کانگریس کی جدوجہد سے وابستگی کا اظہار کیا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی موٹر گاڑیوں کے طویل قافلہ کے ذریعہ محبوب نگر پہنچے تھے۔ ان کی جلسہ گاہ میں آمد پر نوجوانوں نے پرجوش انداز میں خیرمقدم کیا۔جلسہ عام میں سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر، تشہیری کمیٹی کے صدرنشین مدھو یاشکی گوڑ، سابق وزیر ڈاکٹر جے گیتا ریڈی ، اے آئی سی سی سکریٹریز ومشی چند ریڈی، سمپت کمار، سابق وزیر ڈاکٹر جی چنا ریڈی، صدر مہیلا کانگریس سنیتا راؤ اور دیگر قائدین نے شرکت کی اور خطاب کیا۔ کانگریس قائدین کی محبوب نگر روانگی کے موقع پر پولیس کی جانب سے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔ ریونت ریڈی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا زوال یقینی ہے اور آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی۔ کانگریس پارٹی طلبہ و نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے علاوہ روزگار کی فراہمی کو اولین ترجیح دے گی۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ جدوجہد کے دوران کے سی آر نے طلباء اور نوجوانوں سے جو وعدے کئے تھے ان سے انحراف کرلیا گیا۔ روزگار کی فراہمی کے علاوہ بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ الاونس دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تلنگانہ کی تشکیل کیلئے سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی لیکن شہیدان تلنگانہ کے خاندانوں سے مسلسل ناانصافی کی جارہی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ سماج کا ہر طبقہ ٹی آر ایس حکومت سے ناراض ہے اور عوام کو انتخابات کا انتظار ہے تاکہ مرکز میں مودی اور تلنگانہ میں کے سی آر کو اقتدار سے بیدخل کریں۔ انہوں نے کہا کہ 2 اکٹوبر گاندھی جینتی کو شروع کردہ جنگ سائرن 9 ڈسمبر تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے اپنا اقتدار بچانے کیلئے بی جے پی سے خفیہ سمجھوتہ کرلیا ہے۔ انہوں نے طلباء اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کیلئے جدوجہد میں شامل ہوجائیں۔ روزگار کی فراہمی کے بارے میں کے سی آر حکومت کے اعلانات گمراہ کن ہیں۔ ریاست میں ایک لاکھ 90 ہزار سے زائد جائیدادیں مخلوعہ ہیں لیکن حکومت صرف 60 ہزار جائیدادوں پر تقررات کا منصوبہ رکھتی ہے۔ گزشتہ چار ماہ سے پبلک سرویس کمیشن نے تقررات کا کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا۔ ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ ٹی آر ایس حکومت کی بیدخلی اور سونیا گاندھی کی قیادت میں سماجی انصاف پر مبنی حکومت کی تشکیل تک جدوجہد جاری رہے گی۔ محمد علی شبیر کنوینر پولٹیکل افیرس کمیٹی نے کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ تقررات کے مسئلہ پر مباحث کیلئے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد، قبائیل کو 12 فیصد تحفظات کے علاوہ دلتوں کو 3 ایکر اراضی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن کے سی آر نے ایک بھی وعدہ کی تکمیل نہیں کی ہے۔ اس موقع پر کونڈا پور اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے ٹی آر ایس قائدین نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ اسکالر شپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیمات ٹھپ ہوچکی ہیں۔ر