ٹی آر ایس رکن اسمبلی رمیش کی شہریت معاملہ میں 18 مارچ کو سماعت

   


مرکزی وزارت داخلہ کے احکامات کو ہائی کورٹ میں چیلنج
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی سی ایچ رمیش کی شہریت سے متعلق درخواست کی 18 مارچ کو سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ رکن اسمبلی نے شہریت کے بارے میں مرکزی وزارت داخلہ کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ ویملواڑہ کے رکن اسمبلی نے وزارت داخلہ کے احکامات کو چیلنج کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ہندوستانی شہری نہیں ہے۔ وزارت داخلہ نے الزام عائد کیا کہ فرضی دستاویزات کے ذریعہ رمیش نے شہریت حاصل کی ہے۔ جسٹس ابھینند کمار شاویلی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ درخواست کی سماعت کی اور کہا کہ اس معاملہ کی فزیکل ہیئرنگ کی ضرورت ہے۔ درخواست گزار اے سرینواس کے وکیل نے عدالت پر زور دیا کہ وہ آئندہ سماعت کے موقع پر دلائل کی تکمیل کی ہدایت دیں۔ سرینواس نے اسمبلی انتخابات میں رمیش کے خلاف مقابلہ کیا تھا ۔ اسی دوران ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل رام چندر راؤ نے جوابی حلفنامہ داخل کرنے کیلئے عدالت سے وقت مانگا۔ جج نے آئندہ سماعت 18 مارچ کو مقرر کی ہے ۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ نے تلنگانہ حکومت کی رائے حاصل کئے بغیر ہی احکامات جاری کئے ہیں۔ لاء اینڈ آرڈر ریاستی حکومت کا موضوع ہے اور مرکز کو اس معاملہ میں تلنگانہ حکومت سے مشاورت کرنی چاہئے تھی۔