ٹی آر ایس سے عوامی لگاؤ ، بی آر ایس سے عوام افسردہ

   

ناموں کی تبدیلی سے کے سی آر حکومت کو شکست کا سامنا ، عوام کے دلچسپ فقرے
حیدرآباد۔4۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) نام کی تبدیلی کے اثرت ہوتے ہیں! ریاست میں بھارت راشٹرسمیتی کی شکست کے بعد اب جو دلچسپ تبصرے کئے جا رہے ہیں ان میں تلنگانہ راشٹرسمیتی کو بھارت راشٹرسمیتی میں تبدیل کئے جانے کے عمل کا بھی تذکرہ کیا جا رہاہے او رکہا جار ہاہے کہ تلنگانہ راشٹرسمیتی کو بھارت راشٹرسمیتی میں تبدیل کئے جانے کے بعد تلنگانہ عوام کی ٹی آر ایس سے جو جذباتی وابستگی تھی وہ باقی نہیں رہی جس کے نتیجہ میں بھارت راشٹرسمیتی کئے جانے کے بعد کے چندر شیکھر راؤ اور ان کی پارٹی کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے سیکریٹریٹ کو واستو کے نام پر منہدم کئے جانے اور نئی عمارت تعمیر کئے جانے کے معاملہ میں بھی انہیں نشانہ بنایا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ انہوں نے واستو کے نام پر کارکرد اور مضبوط عمارتوں کو منہدم کرتے ہوئے نئی عمارت تعمیر کی تھی اور اسے واستو کے مطابق تعمیر کئے جانے کے دعوے کئے گئے تھے ۔ نام کی تبدیلی کے حوالہ سے کہا جا رہاہے کہ متحدہ آندھراپردیش میں ستیم کمپنی کو زبردست عروج حاصل ہوا تھا اور ستیم اس دور کی بہترین سرکردہ انفارمیشن ٹکنالوجی کمپنیوں میں شمار کی جانے لگی تھی لیکن جب ستیم نے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لئے اپنے نام کو تبدیل کیا تو اس کے بعد کمپنی کے مالکین ستیم راما لنگا راجو کو جیل بھی جانا پڑا تھا۔ ستیم راما لنگا راجونے اپنی کمپنی SATYAM کے کاروبار کو وسعت دینے کے لئے کمپنی کے نام کو تبدیل کرتے ہوئے اسے MAYTAS کیا تھا جو کہ ستیم کا الٹا تھا اور اس کے بعد کمپنی کے زوال کا سلسلہ کچھ اس طرح سے شروع ہوا کہ کمپنی کے مالکین اور ڈائریکٹرس کو جیل جانا پڑا تھا۔کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ راشٹرسمیتی کو ملک بھر میں وسعت دینے کے لئے پارٹی کے نام سے تلنگانہ نکال کراس کی جگہ بھارت کرتے ہوئے بھارت راشٹرسمیتی کیا تھا اور ٹی آر ایس اوربی آر ایس میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن پارٹی کو بی آر ایس کئے جانے کے بعد سے چندر شیکھر راؤ کی مشکلات میں اضافہ ہونے لگا تھا اور اب تلنگانہ میں وہ اقتدار سے محروم ہوگئے جبکہ سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد اگر بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کی تحقیقات کروائی جاتی ہیں تو وہ جیل بھی جاسکتے ہیں۔