ٹی آر ایس کے 3 ارکان اسمبلی علحدہ سیاسی جماعت قائم کرسکتے ہیں

   

بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے کا سنسنی خیز بیان، گریجویٹ حلقوں پر بی جے پی کی کامیابی کا یقین
حیدرآباد۔ بی جے پی کے ریاستی صدر بنڈی سنجے نے ٹی آر ایس کے حلقوں میں یہ کہتے ہوئے سنسنی دوڑادی کہ کے ٹی آر کی امکانی کابینہ میں عدم شمولیت پر 3 ارکان اسمبلی علحدہ سیاسی جماعت قائم کرسکتے ہیں۔ سنجے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر بیماری کا بہانہ بناکر کے ٹی راما راؤ کو چیف منسٹر بنانے کی تیاری کرچکے ہیں۔ پارٹی ارکان اسمبلی نے کے ٹی آر کابینہ میں شمولیت کیلئے دوڑدھوپ شروع کردی ہے اور ارکان اسمبلی کے ایک گروپ میں اس مسئلہ پر ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کے ٹی آر کی کابینہ میں 3 ارکان اسمبلی کو جگہ نہیں ملتی ہے تو وہ علحدہ سیاسی جماعت قائم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی صحت یابی کیلئے وہ نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو چاہیئے کہ وہ دوسروں کے بارے میں زبان کے استعمال میں احتیاط کریں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کنٹراکٹرس سے کمیشن حاصل کرنے چیف منسٹر کا دفتر متحرک ہے۔ انسپکٹر رتبہ کے عہدیدار سے بھی چیف منسٹر آفس کے آفیسرس کمیشن حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل پر کے سی آر کے یو ٹرن سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سنجے نے نلگنڈہ، کھمم و ورنگل اضلاع پر مشتمل گریجویٹ زمرہ کی ایم ایل سی نشست پر کامیابی کا دعویٰ کیا۔ سنجے نے ورنگل ایم ایل سی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو بے روزگار نوجوانوں سے ووٹ مانگنے کا حق نہیں ہے۔ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے بعد ہی وہ ووٹ مانگنے کا حق رکھتے ہیں۔ گذشتہ چھ برسوں میں حکومت نے بے روزگار نوجوانوں کو مایوس کیا ہے ۔ خانگی اساتذہ کا مستقبل لاک ڈاؤن سے تاریک ہوچکا ہے۔ ہزاروں خانگی اساتذہ بے روزگار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اور خاص طور پر گریجویٹ طبقہ بی جے پی کی طرف نظریں لگائے بیٹھا ہے۔ بی جے پی نے گریجویٹ زمرہ کی دونوں نشستوں کیلئے مہم کا آغاز کردیا ہے۔ حیدرآباد، رنگاریڈی اور محبوب نگر پر مشتمل کونسل نشست پر کامیابی کیلئے بی جے پی ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ رامچندر راؤ اس حلقہ سے منتخب ہوئے تھے اور وہ دوبارہ مقابلہ کریں گے۔