ٹی آر ایس پر سرکاری مشنری کے بے جا استعمال کا الزام: کسم کمار

   

عوام حضور نگر میں سبق سکھانے تیار، پدماوتی ریڈی کے حق میں عوامی لہر
حیدرآباد۔ 26ستمبر (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کسم کمار نے الزام عائد کیا کہ حضور نگر کے ضمنی چنائو میں ٹی آر ایس سرکاری مشنری کا بے جا استعمال کررہی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کسم کمار نے کہا کہ حضورنگر میں ریاستی وزراء اور عوامی نمائندوں کو انچارج مقرر کرتے ہوئے ٹی آر ایس سرکاری مشنری کے بے جا استعمال اور دھاندلیوں کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ٹی آر ایس کے منصوبوں کو ناکام بناتے ہوئے جمہوریت اور کانگریس پارٹی کو کامیاب بنائے۔ انہوں نے کہا کہ حضورنگر میں ٹی آر ایس کو شکست کے ذریعہ بدعنوانیوں کو سبق سکھایا جاسکتا ہے۔ کسم کمار نے کہا کہ ٹی آر ایس کی کامیابی کی صورت میں 100 میں ایک کا اضافہ ہوگا جبکہ کانگریس کی کامیابی سے حکومت سے سوال کرنے والی آواز ایوان میں داخل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں سے جھوٹی ہمدردی کرنے والی ٹی آر ایس حکومت نے آج تک وعدوں کی تکمیل نہیں کی۔ قرض معافی اسکیم کے شرائط آج تک تیار نہیں ہوئے جبکہ رئیتو بندھو اسکیم 50 فیصد کسانوں کو فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان بیج اور کھاد سے محرومی کے سبب فصلوں کو نقصان کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح نظام آباد میں چیف منسٹر کی دختر کویتا کو شکست دینے کے لیے کسانوں نے متحدہ طور پر کام کیا تھا اسی طرح حضور نگر میں بھی کسان ٹی آر ایس کو شکست دینے کی تیاری کرچکے ہیں۔ کسم کمار نے کہا کہ سرپنچوں کو آج تک کوئی اختیارات نہیں دیئے گئے اور بڑی تعداد میں سرپنچ پرچہ نامزدگی داخل کررہے ہیں۔ انہوں نے سرپنچوں سے اپیل کی کہ وہ ٹی آر ایس کو شکست دینے میں کانگریس کو تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس کی کامیابی سے برسر اقتدار پارٹی کے غرور و تکبر میں اضافہ ہوجائے گا۔ اتم کمار ریڈی عوامی مسائل پر جدوجہد کرنے والے قائد ہیں اور انہوں نے حضور نگر اسمبلی حلقے کی ترقی میں نمایاں رول ادا کیا ہے۔ اس حلقے سے اتم کمار ریڈی تین مرتبہ منتخب ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیر جگدیش ریڈی نے اپنے قریبی سیدی ریڈی کو دوبارہ امیدوار بناکر مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس بات کا اندیشہ ہے کہ دولت اور شراب کا استعمال کرتے ہوئے عوام کو ٹی آر ایس کے حق میں کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کسم کمار نے کہا کہ حضور نگر میں کانگریس کی کامیابی یقینی ہے اور عوام ٹی آر ایس کے لالچ میں نہیں آئیں گے۔ کسم کمار نے کہا کہ حضور نگر میں انتخابی مہم کے لیے ریونت ریڈی اور بھٹی وکرامارکا بھی دورہ کرسکتے ہیں۔ جانا ریڈی حضور نگر میں مکمل وقت دے رہے ہیں۔ 2018ء میں اتم کمار ریڈی کو 7500 ووٹ کی اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی تھی جبکہ لوک سبھا انتخابات میں اس حلقے سے کانگریس کو 18000 کی اکثریت حاصل ہوئی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ضمنی چنائو میں پدماوتی ریڈی کو 30000 کی اکثریت حاصل ہوگی۔