پارلیمانی جمہوریت کو خطرہ سے بچانے کانگریس اور بائیں بازو کی متحدہ جدوجہد ضروری

   

SIR کے ذریعہ غریبوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی سازش، سی پی آئی کے قومی سمینار سے بھٹی وکرامارکا کا خطاب
حیدرآباد 20 جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کہاکہ ملک میں مذہبی جذبات کے نام پر کارپوریٹ اور فاشسٹ طاقتیں معاشی اور سماجی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہیں اور یہ ملک میں پارلیمانی جمہوریت کے لئے اہم خطرہ ہے۔ بھٹی وکرامارکا سی پی آئی کی صد سالہ تاسیس تقاریب کے تحت منعقدہ قومی سمینار سے خطاب کررہے تھے۔ سی پی آئی اسٹیٹ کونسل نے سمینار کا اہتمام کیا تھا جس کا عنوان ’’آج کے ہندوستان میں بائیں بازو کو درپیش چیالنجس‘‘ رکھا گیا تھا۔ بھٹی وکرامارکا نے بائیں بازو جماعتوں پر زور دیا کہ وہ متحدہ طور پر جدوجہد کریں اور کارپوریٹ اداروں کی جانب سے ملک کی معیشت پر کنٹرول کی کوششوں پر نظر رکھیں۔ اُنھوں نے کہاکہ سماجی اور معاشی اُمور کے بارے میں عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے الزام عائد کیاکہ مرکز کی بی جے پی حکومت عام آدمی کے مسائل سے زیادہ کارپوریٹ طبقہ کے مفادات کے تحفظ میں دلچسپی رکھتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات میں بائیں بازو جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کمیونسٹ نظریات کے بانیان کا حوالہ دیا اور کہاکہ بائیں بازو جماعتیں ہمیشہ غریب اور مزدوروں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتی رہی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کھمم ضلع میں بائیں بازو جماعتوں کی سرگرمیاں وسیع ہیں اور یہ بائیں بازو اور جمہوری طاقتوں کا مضبوط مرکز ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ 1947ء میں ملک کو آزادی حاصل ہوئی جبکہ حیدرآباد اسٹیٹ کا 1948ء میں انڈین یونین میں انضمام عمل میں آیا۔ زمینداروں کے مظالم کے خلاف تلنگانہ میں بائیں بازو نے مسلح جدوجہد کی۔ حیدرآباد کے انضمام کے لئے کھمم، نلگنڈہ اور ورنگل اضلاع میں مہم چلائی گئی۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک میں دستور کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تمام جمہوری اور عوامی طاقتوں کو بی جے پی حکومت کی پالیسی کے خلاف میدان میں آنا ہوگا۔ اُنھوں نے کہاکہ SIR کے نام پر بی جے پی حکومت غریبوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ 1
بھٹی وکرامارکا نے کانگریس اور بائیں بازو کی جانب سے ملک میں طویل جدوجہد کی تائید کی۔ سمینار سے سی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری ڈی راجہ، سی پی ایم کے قومی جنرل سکریٹری ایم اے بے بی، سی پی آئی ایم ایل کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ اور آر ایس پی کے جنرل سکریٹری منوج بھٹاچاریہ نے مخاطب کیا۔1