جنوبی ریاستیں نظر انداز، قومی سطح پر شمالی سیاست کا عروج: ریونت ریڈی
حیدرآباد: کانگریس رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے سنسنی خیز ریمارک کیا کہ اگر ملک میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے یکساں انتخابات ہوتے ہیں تو ملک دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گا ۔ اس موقع پر ملک میں ایک اور تقسیم کیلئے جدوجہد کا آغاز ہوسکتا ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ صدر جمہوریہ کے عہدہ پر فائز ہونے کیلئے جنوبی ہندوستان کے ووٹوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ صدر جمہوریہ کے راست طور پر الیکشن کی صورت میں جنوبی ہندوستان کی عوام کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ ملک کی تقسیم کی صورت میں جنوبی ہندوستان پر مشتمل ملک دولتمند بن کر ابھرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی علاقوں کے عوام کی شمولیت اور ضرورت کے بغیر صدر جمہوریہ کا انتخاب کیا جائے تو پھر یہاں کے عوام خاموش کیوں رہیں گے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سے جنوبی ریاستوں کی اہمیت گھٹ چکی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکز میں تمام اہم وزارتیں شمالی ہند کے قائدین کو دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستیں ٹیکس کے ذریعہ ملک کو زائد آمدنی فراہم کر رہی ہے لیکن یہ فنڈس شمالی ریاستوں کو منتقل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نریندر مودی کو ملک میں ایک ہی الیکشن کی تجویز سے دستبرداری اختیار کرنی چاہئے ورنہ جنوبی ریاستوں کے ساتھ جانبداری کھل کر سامنے آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے جاریہ سیشن میں وہ تمام مسائل کو زیر بحث لائیں گے۔ ریونت ریڈی نے کسانوں کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج کو کمزور کرنے کیلئے قومی شاہراہوں پر کھدائی کا کام انجام دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے زرعی قوانین سے دستبرداری میں کوئی برائی نہیں ہے ۔ وزیراعظم پر قوانین واپس لینے کے خلاف دباؤ بنایا جارہا ہے ۔ مرکزی بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ جھوٹ کہنے میں مودی اور کے سی آر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مرکزی بجٹ میں عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سابق میں بہار کو پانچ لاکھ کروڑ کا پیاکیج دیا گیا تھا لیکن آج تک اعلان کے مطابق فنڈس جاری نہیں کئے گئے ۔ نریندر مودی اور کے سی آر وقفہ وقفہ سے اعلانات کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔