پالمور رنگا ریڈی آبپاشی پراجیکٹ کو 10 ماہ میں مکمل کیا جائے

,

   

Ferty9 Clinic

چیف منسٹر کا دورہ اور عہدیدارو ںکو ہدایات۔ ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کا چندر شیکھر راو نے تفصیلی جائزہ لیا

حیدرآباد۔29اگسٹ(سیاست نیوز) پالمورو رنگا ریڈی آبپاشی پراجیکٹ کو اندرون 10ماہ مکمل کرلیا جائے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چند ر شیکھر راؤ نے آج پالمورو رنگاریڈی پراجکٹ کا دورہ کرکے ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کا مشاہدہ کیا اورعہدیداروں کو ہدایت دی کہ اس پراجیکٹ کی معینہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنایاجائے کیونکہ کرشنااور گوداوری کو مربوط کرنے میں یہ پراجیکٹ انتہائی اہم و معاون ثابت ہوگا۔ چیف منسٹر نے اس موقع پر پراجیکٹ کی تفصیلات سے واقفیت حاصل کرتے ہوئے کہا کہ ناگزیر وجوہات اور مختلف رکاوٹوں کے سبب پراجیکٹ کی تکمیل میں تاخیر ہوچکی ہے لیکن اب کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہئے بلکہ اندرون 10ماہ اس کو مکمل کرنے اقدامات کئے جائیں اور حکومت نتائج دیکھے گی۔ انہو ںنے بالواسطہ طور پر کہا کہ اب کوئی رکاوٹ کے متعلق اطلاعات یا بہانوں کو نہیں سنا جائے گا ۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کی حکومت سے پانی کے سلسلہ میں مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلی نے فیصلہ کیا کہ اس پراجکٹ کی عاجلانہ تکمیل کے ذریعہ 570 ٹی ایم سی پانی کو قابل استعمال بنایاجاسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ سابقہ متحدہ ریاست آندھراپردیش میں آندھرائی حکمرانوں کی جانب سے تلنگانہ سے ناانصافیوں کے سبب تلنگانہ کے کئی علاقے خشک سالی کا شکار رہے اور اب تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت کی جانب سے تلنگانہ کو سرسبز و شاداب بنانے اقدامات کئے جا رہے ہیں جس میں بڑی حد تک کامیابی حاصل ہورہی ہے ۔ انہو ںنے بابلی پراجیکٹ کے سلسلہ میں چندرا بابو نائیڈو کو حاصل ہونے والی ناکامی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ کے مہاراشٹرا حکومت سے مذاکرات کے ذریعہ پانی کے استعمال کو یقینی بنایاگیا ۔ چیف منسٹر نے پالمورو پراجکٹ کے تعمیری کاموں پر اطمینان ظاہر کرکے ہدایت دی کہ وہ نشانہ کی تکمیل پر توجہ مرکوز کریں تاکہ تلنگانہ کے اس خطہ میں خشک سالی کو دور کرنے میں کامیابی حاصل ہوسکے۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس دورہ کے دوران موجود عہدیداروں سے پراجیکٹ کی تفصیلات حاصل کرکے انہیں منصوبہ کے مطابق پراجیکٹ کو تیزی سے مکمل کرنے اور اسے کالیشورم کے طرز پر ترقی دینے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اس پراجیکٹ کی تکمیل کی صورت میں دریائے کرشنا اور گوداوری مربوط ہوجائینگے اور ان کے فاضل پانی کو استعمال کیا جاسکے گا۔