آسام اور کیرالہ میں منتخب ارکان کی تعداد میں اضافہ ۔ ٹاملناڈو میں سابقہ تعداد برقرار
حیدرآباد: ملک میں 5ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں جملہ 112 مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی جو بہت بڑی تعداد ہے ۔ مغربی بنگال ‘ کیرالہ ‘ تمل ناڈو اور آسام میں مسلم امیدواروں کی کامیابی اور ان کی تعداد نے ملک بھر کے عوام کو ششدر کردیا ہے۔ مغربی بنگال گذشتہ اسمبلی کے مقابلہ میں مسلم ارکان اسمبلی کی تعداد میں کمی ہوئی ہے لیکن جملہ 44 ارکان اسمبلی کامیاب ہوئے ہیں جن میں 43کا تعلق ترنمول کانگریس سے ہے اور ایک مسلم رکن اسمبلی آئی ایس ایف سے منتخب ہوا ہے جبکہ گذشتہ بنگال اسمبلی میں 59 مسلم چہرے تھے جن میں 32کا تعلق ترنمول کانگریس سے تھاجبکہ 8مسلم ارکان اسمبلی کانگریس سے منتخب ہوئے تھے اسی طرح بائیں بازو جماعتوں کے 9 ارکان اسمبلی تھے ۔ آسام اسمبلی میں 31 مسلم ارکان اسمبلی منتخب ہوئے ہیں جن میں 16 مسلم ارکان کانگریس سے منتخب ہوئے اور 15 ارکان کو بدر الدین اجمل کی سیاسی جماعت اے آئی یو ڈی ایف منتخب کروانے میں کامیابی رہی ہے۔مجموعی اعتبار سے آسام میں مسلم ارکان اسمبلی تعداد میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ گذشتہ انتخابات میں 29 مسلم ارکان کامیاب ہوئے تھے اور گذشتہ اسمبلی میں 29 ارکان اسمبلی کے بعد اب 31 ارکان اسمبلی کا منتخب ہونا مسلم چہروں کی تعداد میں اضافہ کو ظاہر کرتا ہے۔ کیرالہ میں 32مسلم ارکان اسمبلی منتخب ہوئے ہیں جس میں 15 ارکان اسمبلی انڈین یونین مسلم لیگ سے منتخب ہوئے ہیں جبکہ کانگریس کے 3ارکان اسمبلی ‘ سی پی ایم سے 9مسلم ارکان اسمبلی کے علاوہ 3 آزاد مسلم ارکان اور انڈین نیشنل لیگ اور نیشنل سیکولر کانفرنس کے ایک ایک رکن کے ساتھ کیرالہ اسمبلی میں مسلم ارکان کی تعداد 32 ہوچکی ہے۔ گذشتہ اسمبلی میں کیرالہ میں 29 مسلم ارکان تھے جن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ تمل ناڈو میں مسلم ارکان کی تعداد میں کوئی اضافہ یا کمی ریکارڈ نہیں کی گئی بلکہ تمل ناڈو میں 5 مسلم ارکان اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور گذشتہ اسمبلی میں بھی 5مسلم ارکان اسمبلی تھے اور یہی تعداد اب بھی برقرار ہے۔ مغربی بنگال میں مسلم نمائندگی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے لیکن مجموعی اعتبار سے دیگر اسمبلیوں میں موجود مسلم ارکان اسمبلی کی تعداد سے بنگال کی اسمبلی میں کافی اچھی اور مستحکم مسلم ارکان اسمبلی کی تعداد موجود ہے۔