’پاک۔افغان کا اپنی بقاء کیلئے سیاسی مفاہمت کرنا بہتر ‘

   

افغانستان کیلئے نامزد کردہ سابق امریکی نمائندہ زلمے خلیل زاد کا حالیہ دورہ کابل کے بعد اہم بیان

واشنگٹن، 17 ستمبر (یو این آئی) اہم امریکی عہدیدار نے اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ وہ کابل کے ساتھ سیاسی تصفیہ تلاش کرے ، یہ بیان پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کو یہ انتخاب کرنے کے لیے کہنے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے کہ وہ اپنے ہمسائے (پاکستان) کا انتخاب کرے یا کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا۔ رپورٹ کے مطابق سابق ٹرمپ انتظامیہ کے دوران افغانستان کے لیے نامزد کردہ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا کہ افغانستان کو ایسے مذاکرات میں پاکستان کی مدد کرنی چاہیے ۔ سابق سفارت کار نے حال ہی میں امریکی یرغمالیوں کے ایلچی ایڈم بوہلر کے ہمراہ کابل کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے افغان طالبان حکومت کے اہم ارکان سے ملاقات بھی کی تھی۔ اپنے دورے کے اختتام پر ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں میں زلمے خلیل زاد نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور ٹی ٹی پی کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس چیلنج کا فوجی حل تلاش کرنا ایک غلطی ہے ، اور اسلام آباد سے کہا کہ وہ ‘سیاسی حکمت عملی اپنائے اور مذاکرات کرے ‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ 2021 سے قبل امریکہ اور افغان حکومت کو مشورہ دیتی تھی کہ وہ طالبان سے مذاکرات کریں اور سیاسی تصفیہ کریں، اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان خود بھی یہی کرے ۔ یہ پیغام ایسے وقت میں آیا ہے ، جب چند روز قبل وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کابل کو دو ٹوک پیغام دیا تھا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے بنوں کے دورے کے دوران آرمی چیف کے ہمراہ کہا تھا کہ ‘میں افغانستان کو یہ واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ پاکستان اور ٹی ٹی پی میں سے ایک کا انتخاب کرے ‘۔ اگرچہ صدر ٹرمپ اور امریکی فوجی حکام جیسے کہ سینٹ کام کے سربراہ جنرل مائیکل کُریلا بارہا پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی تعاون کی تعریف کرچکے ہیں، جس کی نمایاں مثال کابل ایئرپورٹ کے ایبی گیٹ حملے میں ملوث داعش-خراسان کے کارندے کی گرفتاری ہے ، مگر زلمے خلیل زاد کا یہ پیغام پہلی نشانی ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اسلام آباد اور کابل دونوں مذاکرات کی میز پر آئیں۔ واشنگٹن کے حلقوں میں خلیل زاد کو ایک سخت گیر مؤقف رکھنے والا سمجھا جاتا ہے ، وہ کھلے عام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قید میں موجود بانی عمران خان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور ماضی میں پاکستان پر تنقید کر چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ ایک ٹویٹ میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی داعش-خراسان کے خلاف کامیاب کارروائیوں نے ان کی قیادت کو پاکستان میں دھکیل دیا ہے ، اور یہ بھی الزام لگایا تھا کہ پاکستان اب اس گروہ کے لیے ایک ‘محفوظ پناہ گاہ’ بنتا جا رہا ہے ۔ زلمے خلیل زاد کے بیانات نے قید سابق وزیراعظم کے مؤقف کی بازگشت کی، جنہوں نے بھی اپنی جماعت کی حکومت والے صوبہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے ۔