پبلک پراسیکیوٹرس کے تقررات اپریل تک مکمل کرلئے جائیں

   


حکومت کو ہائی کورٹ کی ہدایت، 200 مخلوعہ جائیدادوں پر چیف جسٹس کی برہمی
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے حکومت کی جانب سے پبلک پراسیکیوٹرس کے تقررات میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے کہا کہ انصاف رسانی میں تاخیر کیلئے ریاستی حکومت ذمہ دار ہے۔ کریمنل کورٹس میں پبلک پراسیکیوٹرس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں جس کے نتیجہ میں مقدمات کی یکسوئی میں تاخیر ہورہی ہے۔ عدالت نے بتایا کہ کریمنل کورٹس میں 570 جائیدادوں میں صرف 212 پبلک پراسیکیوٹرس کا تقرر کیا گیا ۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی نے حکومت سے دریافت کیا کہ موجودہ صورتحال میں تیزی سے انصاف رسانی کیسے ممکن ہوگی ۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے حکومت کو ہدایت دی کہ مخلوعہ جائیدادوں پر فوری تقررات عمل میں لائیں۔ عدالت نے کہا کہ یکم اپریل سے قبل حکومت ڈائرکٹر آف پراسیکیوشن کا تقرر کرتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کرے۔ ڈیویژن بنچ نے کہا کہ پبلک پراسیکیوٹرس کے تقررات کے بارے میں گورنمنٹ پلیڈر کی جانب سے داخل کی گئی رپورٹ سے عدالت مطمئن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محض 212 پبلک پراسیکیوٹرس کا تقرر کیا گیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے ہوم سکریٹری اور دیگر عہدیداروں سے مشاورت کے بعد تقررات کئے گئے ہیں اور باقی جائیدادوں پر تقررات کا عمل جاری ہے ۔ چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا کہ تقررات کیلئے حکومت کو 6 مہینے کا وقت ناکافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر 2020 میں عدالت نے تقررات کی ہدایت دی تھی لیکن آج تک یہ کام مکمل نہیں ہوا۔ حکومت پھر ایک بار اس سلسلہ میں وقت مانگ رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تاخیر کے نتیجہ میں عوام کو انصاف رسانی میں دیری ہورہی ہے اور کریمنل سسٹم کا انحصار پبلک پراسیکیوٹرس پر ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 50 فیصد جائیدادوں کا خالی رہنا معمولی بات نہیں ہے ۔ ایک پبلک پراسیکیوٹر دو عدالتوں کا کام کاج دیکھ رہے ہیں اور ریاست میں 570 کریمنل کورٹس ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عدم تقررات کے سبب مقدمات کی سماعت اور یکسوئی میں تاخیر ہورہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو ہدایت دی کہ پبلک پراسیکیوٹرس کو درکار انفراسٹرکچر جیسے لیاپ ٹاپ اور مناسب ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے ۔ ہائی کورٹ نے اپریل کے پہلے ہفتہ تک 200 پبلک پراسیکیوٹرس کے تقرر کی ہدایت دی ہے۔