والدین بچوں کو اسکول بھیجنے سے خوفزدہ ، طلبہ کی اموات پر شکوک و شبہات
کورٹلہ /28 اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) 15 دن کے عرصہ میں پداپور اقامتی اسکول میں دو طلباء کی موت مزید 4 طلباء کی صحت بگڑ جانے کے بعد ان کی حالت میں سدھار آنے کے واقعہ میں ابھی سسپنس بنا ہوا ہے ۔ تقریباً ایک ماہ کا عرصہ ہو رہا ہے ۔ فوت ہونے والے دو طلباء کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کہاں ہے ۔ وہ معلوم نہیں ہے ۔ اس ضمن میں ماں باپ میں ڈر و خوف ابھی برقرار ہے ۔ ماں باپ اپنے بچوں کو اقامتی اسکول کو روانہ کرنے سے ڈر رہے ہیں۔ اقامتی اسکول کے طلباء کی اموات کی وجہ معلوم کرنے کیلئے طلباء کے اعضا کو ٹسٹ کیلئے حیدرآباد روانہ کرنے کی میڈیکل عہدیدار کہہ رہے ہیں۔ پوسٹ مارٹ رپورٹ کے آنے کیلئے 5,6 دن لگنے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ ایسے طلباء جن کی صحت بگڑ گئی تھی ۔ ان طلباء کو سانپ کاٹنے کا علاج کیا جانا وینٹی لیٹر پر منتقل کیا جانا جی دنیا ، انیرودھ کے سانپ کاٹنے سے فوت ہوا ہے کہہ کر شک و شبہات کو جنم دے رہا ہے ۔ اس کے علاوہ اقامتی اسکول کے اطراف و اکناف کی صفائی کرتے وقت ہر طرف کثیر تعداد میں سانپ نظر آئے ۔ زہریلی غذا ہونے کی شکایت پر غذائی اشیاء کے سیمپل جمع کرکے ٹسٹ کیلئے روانہ کئے گئے ۔ اس بارے میں بھی کوئی پکی اطلاع نہیں ہے ۔ پداپور اقامتی اسکول کے ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرماکا کے دورہ سے واپسی کے بعد اسکول کی صفائی کے کاموں میں تیزی پیدا ہوگئی ۔ گنہ دتیہ کی موت کے وقت ڈسٹرکٹ کے اعلی عہدیدار اقامتی اسکول کے احاطہ میں صفائی کرانے کو سمجھ رہے تھے ۔ فنڈس کے نہ ہونے کے سبب کنٹراکٹر کام مکمل کروانے کیلئے آگے نہ آنے کا والدین الزامات عائد کر رہے ہیں ۔ تبھی اقامتی اسکول کی صفائی کیلئے اقدامات کئے جانے اور ایک حادثہ پیش نہ آنا بچوں کی اموات کا پتہ نہ چلنے سے آدھے سے زیادہ والدین اپنے بچوں کو اقامتی اسکول روانہ نہیں کر رہے ہیں ۔ طلباء کی اموات پر جو شک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ انہیں دور کرتے ہوئے ماں باپ میں جو خوف کا ماحول پایا جاتا ہے اسے دور کرنے پر پداپور اقامتی اسکول جو کافی مشہور اسکول ہے پداپور اقامتی اسکول طلباء کی تعدادسے بھر جائے گا ۔