سکیوریٹی کو ہتھیار لیجانا غیر قانونی، ڈاکٹر ایم رمیش اور سی بھاسکر ریڈی کا خطاب
حیدرآباد 22 فروری (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد اور اس کے اطراف و اکناف علاقوں میں واقع مالس، دواخانے، بینک، کمپنی یا صنعت میں سکیوریٹی گارڈس ہوتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ مجاز ہیں۔ ان کے پاس ملازمتی فوائد ہیں۔ پرائیوٹ سکیوریٹی ایجنسیاں اکثر پی ایف یا صحت کے فوائد کو چھوڑ کر انھیں ملازمت پر رکھتے ہیں۔ وہ زیادہ تر تربیت یافتہ بھی نہیں ہوتے ہیں۔ خانگی کمپنیاں ماہانہ 20 ہزار روپئے بچانے کی خاطر درخواست گذار کو ڈریس / یونیفارم دے دیتے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں تقریباً پانچ لاکھ پرائیوٹ سکیوریٹی ایجنسی کے ملازمین مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں جبکہ صرف دو لاکھ مجاز ملازمین ایجنسیوں کے پاس ہیں۔ اس پس منظر کی جانچ پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے جس کو اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ سائبرآباد پولیس کمشنر ڈاکٹر ایم رمیش نے کہاکہ پرائیوٹ سکیورٹی ایجنسیوں کو (پرائیوٹ سکیوریٹی ایجنسیز ریگولیشنز ایکٹ) کے رہنما خطوط پر عمل کرنا چاہئے۔ تاہم ریٹائرڈ فوجی ملازمین جو ملازمتوں کے لئے درخواست دے رہے ہیں، وہ اپنے ذاتی ہتھیاروں کے لائسنس کے ساتھ درخواست دے رہے ہیں۔ کسی بھی خانگی ایجنسی کو ہتھیار یا بندوق برداروں کے ساتھ ختم کیا جانا چاہئے۔ سی بھاسکر ریڈی اسوسی ایشن آف پرائیوٹ سکیوریٹی ایجنسیز فار تلنگانہ اور آندھراپردیش کے چیرمین نے اس بیان کی تائید کرتے ہوئے کہاکہ ایکٹ میں ہتھیار لے جانے کا ذکر نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ یہ غیر قانونی ہے۔ انھوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ ایکٹ اس کی اجازت نہیں دیتا لیکن ایجنسیاں یا بینک اس کی اجازت دیتے ہیں اور پولیس نے کبھی اعتراض نہیں کیا۔ سائبرآباد کمشنر نے یہ بھی نوٹ کیاکہ پس منظر کی تصدیق کو نظرانداز کیا جاتا ہے اور کچھ ملازمین کے پاس متعدد شناختی کارڈس ہوتے ہیں جو ایجنسیوں کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ صرف تلنگانہ ریاست میں 850 پرائیوٹ سکیوریٹی ایجنسیوں کے لئے پانچ لاکھ سے زائد ملازمین کام کررہے ہیں جبکہ صرف دو لاکھ مجاز ایجنسیوں کے پاس ہیں۔ باقی ملازمین کے پاس پی ایف یا صحت کے فوائد نہیں ہیں۔ مجاز کمپنیوں کے برعکس جو لائسنس اور صحت کے فوائد فراہم کرتی ہیں، ہندوستان بھر میں ایک کروڑ ملازمین ہیں لیکن صرف 40 ہزار کمپنیاں لائسنس یافتہ ہیں۔ بھاسکر ریڈی نے کہاکہ ایجنسیوں کو تربیتی اکیڈیمیوں کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہئے اور مفاہمت ناموں پر دستخط کرنا چاہئے لیکن زیادہ تر اس پر عمل نہیں کرتے جس کی وجہ سے 90 فیصد ملازمین غیر تربیت یافتہ ہیں۔ انھوں نے کہاکہ 20 صفحات کی درخواست میں PSARA کے تحت پی ایف، جی ایس ٹی، ای ایس آئی، لیبر لائسنس جیسے سرٹیفکٹ شامل ہیں۔ بھرتی کے عمل کے دوران انھیں تربیت سے گزرنا ہوگا۔ تاہم زیادہ تر ایجنسیاں اسے قبول نہیں کرتیں کیوں کہ چارجس 20 ہزار روپئے فی شخص ہیں۔ (ش)