کسانوں کے احتجاج کا اب کوئی جواز نہیں : مرکزی وزیر زرعت
نئی دہلی۔ مرکز کی مودی حکومت نے کسانوں کے ایک اور مطالبہ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے تینوں زرعی قوانین کی واپسی کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل آج کہا کہ حکومت نے کسانوں کے ذریعے پرالی جلانے کے عمل کو جرم کے زمرے سے باہر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کا یہ مطالبہ بھی قبول کر لیا گیا ہے۔مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ کسانوں کے تقریباً تمام مطالبات قبول کر لئے گئے ہیں۔ ایسے حالات میں انہیں اب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جانا چاہئے۔ تومر نے کہا جب تینوں زرعی قوانین واپسی کا اعلان وزیر اعظم نریندر مودی بذات خود کر چکے ہیں اور پارلیمنٹ میں بل لانے کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے تو پھر کسانوں کی تحریک کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ اب کسانوں کو بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور احتجاج ختم کر دینا چاہئے۔کسان تحریک کے دوران مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کو واپس لینے کے تعلق سے نریندر تومر نے کہا کہ یہ ریاست کا موضوع ہے، لہذا متعلقہ ریاستی حکومتیں ان معاملات پر فیصلہ کریں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم مودی نے کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) دینے کے لیے کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے، ان کی رپورٹ آتے ہی اس پر کارروائی شروع کر دی جائے گی۔