پرانے شہر میں میٹرو ریل ‘ جائیداد مالکین کو قانون کے مطابق معاوضہ کا تیقن

,

   

قانون ساز کونسل میں جناب عامر علی خان کی نمائندگی پر ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو کا جواب ۔ ’ نمائش ‘ کے دوران خصوصی ٹرینں چلانے سے بھی اتفاق

حیدرآباد 19 ڈسمبر ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ پرانے شہر میں حیدرآباد میٹرو ریل کیلئے اپنی جائیداد حوالہ کرنے والوں کو مایوس نہیں کرے گی بلکہ قوانین کے مطابق جو معاوضہ دیا جانا چاہئے اسے یقینی بنائے گی۔ ریاستی وزیر ڈی سریدھر بابو نے آج چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی جانب سے قانون ساز کونسل میں بیان دیتے ہوئے یہ یقین دہانی کروائی اور کہا کہ حکومت نے حیدرآبا دمیٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ میں پرانے شہر کی ضرورت کو محسوس کرکے فوری حصول اراضیات کا آغاز کیا ہے۔ ڈی سریدھر بابو رکن کونسل جناب عامر علی خان کی جانب سے وقفہ سوالات میں اٹھائے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے ۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت ‘شہر حیدرآباد میں سہولتوں کو بہتر بنانے اقدامات کر رہی ہے اور دوسرے مرحلہ کے پراجکٹ کا جو تخمینہ لگایا ہے اس کے مطابق 34 ہزار 259کروڑ کا منصوبہ ہے اور اس کو حکومت نے خانگی عوامی شراکت داری کے ذریعہ مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہو ں نے بتایا کہ نمائش کے دوران حیدرآباد میٹرو ریل سے خصوصی ٹرینیں چلانے اقدامات کئے جائیں گے اور موجودہ 3 بوگیوں میں ایک بوگی کے اضافہ کا تیقن دیا۔ سریدھر بابو نے ایوان میں جناب عامر علی خان کی تجویز پر مثبت ردعمل ظاہر کرکے کہا کہ یکم جنوری تا 15 فروری میٹرو ریل کی خصوصی ٹرینیں چلائی جائیں گی اس کے علاوہ جناب عامر علی خان کی جانب سے پرانے شہر کے حیدرآباد میٹرو ریل کے متاثرین کو معقول معاوضہ کی ادائیگی کی اپیل پر مثبت ردعمل میں کہا کہ حکومت ایکٹ کے مطابق معاوضہ ادا کرنے اقدامات کریگی۔ انہو ںنے حیدرآباد میٹرو ریل کی بوگیوں میں اضافہ کرکے مسافرین کو سہولتوں کیلئے متوجہ کروانے پر بھی مثبت ردعمل میں کہاکہ حکومت سے اس مسئلہ کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور ماہرین سے مشاورت کے بعد اس پرعمل کی ہدایت دی جائے گی۔ میٹرو ریل کے متعلق جناب عامر علی خان کے سوال پر مباحث میں مسٹر ٹی جیون ریڈی ‘ مسٹر ایم ایس پربھاکر کے علاوہ مسٹر رویندر راؤ نے حصہ لیا ۔ سریدھر بابو نے بتایاکہ حیدرآباد میٹرو ریل کے پرانے شہر کی راہداری پر تاریخی و مذہبی مقامات سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا رہی ہے اور جو منصوبہ ہے اس کے مطابق ان تمام تاریخی اور مذہبی مقامات کو محفوظ رکھ کر حیدرآباد میٹرو ریل کے تعمیری کاموں کو مکمل کیا جائے گا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ مرکزی حکومت سے اس راہداری پر کاموں کے آغاز کی اجازت کا انتظار ہے اور حکومت کو یقین ہے کہ جلد مرکزسے یہ اجازت نامہ جاری کردیا جائیگا۔ انہوں نے حیدرآباد میٹرو ریل کے کرایوں میں اضافہ کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایسی منصوبہ بندی نہیں کی اور نہ ہی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ جناب عامر علی خان نے وزیر کے جواب سے قبل مباحث کے دوران استفسار کیا کہ پرانے شہر میں میٹروریل کے کامو ںکو کب تک مکمل کیا جائے گا۔ انہو ںنے حکومت سے سوال کیاتھا کہ میٹرو ریل کے مسافرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ اور مصروف ترین اوقات میں عوام کو مشکلات کو دور کرنے موجودہ 3بوگیوں میں اضافہ کرکے حیدرآباد میٹر وریل کو دہلی اور کولکتہ کے طرز پر 8بوگیوں والی بنایا جائے۔ ایم ایس پربھاکر نے اس سوال پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ پرانے شہر میں میٹرو ریل راہداری پر متاثر جائیدادو ں کے مالکین کو معقول معاوضہ ادا کرنے اقدامات کئے جائیں کیونکہ پرانے شہر میں جن علاقوں سے میٹرو ریل گذرنے والی ہے وہ تجارتی علاقے ہیں اور شہر کے اس حصہ میں محنت کش طبقہ رہتا ہے اگر ان کے اثاثہ جات حاصل کئے جا رہے ہیں تو ان کی معقول قیمت بھی ادا کی جانی چاہئے ۔ انہو ںنے حکومت سے میٹرو ریل کرایوں میں اضافہ پر بھی استفسار کیا تھا جس پر انہوں نے کہا کہ ان اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ جناب عامر علی خان نے کہا کہ حیدرآباد میٹرو ریل جس طرح کرکٹ میاچ ‘ تہواروں اور دیگر مواقعوں پر میٹرو ریل کے اوقات کار میں اضافہ کرتی ہے اسی طرح ’نمائش ‘ کے دوران بھی میٹرو ریل کی خدمات میں بہتری لانے اور عوام کو سہولت پہنچانے اوقات کار میں اضافہ کے علاوہ اضافی ٹرینیں چلائی جانی چاہئے ۔ ٹی جیون ریڈی نے مباحث میں کہا کہ میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ یعنی شمس آباد تک حیدرآباد میٹرو ریل کی توسیع کیلئے وقت کا تعین کیا جائے اور ایوان کے علاوہ عوام کو واقف کروایا جائے ۔ ڈی سریدھر بابو نے تمام ارکان کونسل جنہوں نے ان مباحث میں حصہ لیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ حکومت سے ذرائع حمل و نقل کی سہولتوں کو بہتر بنانے اقدامات کئے جارہے ہیں۔3