حیدرآباد ۔ 18 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد میں مقیم جی آئی ایس پروفیشنلز کو آرڈینیت پر مبنی ڈور نمبرنگ سسٹم کی تجویز پیش کی گئی ۔ سٹیلائٹ امیجری اور جیوگرافک انفارمیشن سٹمس (GIS) ٹولز کا فائدہ اٹھاتا ہے تاکہ ہر پراپرٹی کو ایک درست ڈیجیٹل ایڈرس تفویض کیا جاسکے ۔ یہ بھی پراپرٹی مالکان کی طرف سے دستی کام کے بوجھ اور انسانی مداخلت کو محدود کرتے ہوئے خود پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ حیدرآباد میں ڈور ( دروازے ) کے نمبروں کے نظام میں ترمیم کرنے اور زیادہ سائنسی اور شفاف طریقہ کو اپنانے کے اقدام میں حیدرآباد میں مقیم GIS پیشہ ور میجر شیوا کرن اور کے وینوگوپال نے دو سال کی تحقیق کے بعد ایک نئے عرض البلد طول بلد کے نفاذ کی تجویز پیش کی ۔ ریاست میں ڈیجیٹل ڈور نمبر (DDN) پر مبنی نظام اسے ون نیشن ون نمبر (ONON) سسٹم کے طور پر حوالہ دیتے ہوئے پیشہ ور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منفرد ڈیزائن کردہ نمبرنگ سسٹم کو ڈپلیکٹ یا غلط استعمال کرنا مشکل ہے ۔ یہ ڈیجیٹل پر مبنی نمبرنگ سسٹم ہر پراپرٹی کو ایک منفرد اور ناقابل تکرار کوآرڈینیٹی پر مبنی نمبر تفویض کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو کہ اکثر ناقص یا بار بار آنے والے دروازے کے نمبروں کا سائنسی بنیاد پر حل فراہم کرتا ہے ۔ جو اس وقت ریاست میں موجود ہیں ۔ یہ خیال جو سٹیلائٹ امیجری اور جیو گرافک انفارمیشن سسٹمس ٹولز کا فائدہ اٹھاتا ہے تاکہ ہر پراپرٹی کو ایک درست ڈیجیٹل ایڈرس تفویض کیا جاسکے ۔ وہ بھی ONON کے ساتھ جائیداد کے مالکان یا تو ISRO کے تیار کردہ بھون جیوپورٹل یا گوگل میپس کا استعمال کر کے اپنا پتہ بتا سکتے ہیں ۔ موجودہ ڈور نمبر سسٹم وارڈ نمبر الاٹ کرنے کے روایتی طریقہ پر عمل کرتا ہے ۔ پہلے بلاک نمبر اور پھر پلاٹ نمبر ۔ جی آئی ایس پروفیشنل کی وضاحت کرتے ہوئے جیسے جیسے آبادی بڑھتی گئی وارڈوں کی حد بندی کی گئی جس کے نتیجہ میں کئی نقلی اور ناقص دروازے نمبر آئے ۔ 2020 کے جی ایچ ایم سی کے اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد میں فی الحال 150 وارڈس ہیں ۔ جہاں ہر ایک میں 40 ہزار تا 50 ہزار کی آبادی ہے ۔ جی ایچ ایم سی کی حدود میں تقریبا 24 لاکھ جائیدادیں ہیں ۔ تاہم جی ایچ ایم سی کے مطابق تشخیص شدہ جائیدادیں صرف 5.64 لاکھ بنتی ہیں ۔ ڈیجیٹل نقشوں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے کسی ایک ایڈرس کو شیئر کرنے کے روایتی طریقہ کی جگہ لے رہی ہے ۔ ’ لوکیشن شیئرنگ ‘ کی عادت نے ایک طرح سے ایڈرس کی جگہ لے رہی ہے ۔ لہذا اوپن لوکل باڈیز پہلے دس منتخب ULBs میں لاگو کر کے اس نئے طریقہ کار کو اپنا سکتے ہیں اور خاطر خواہ فیڈ بیک کے ساتھ ٹکنالوجی کو مزید ترقی دے سکتے ہیں ۔ ڈی ڈی ایس سسٹم کا مقصد ڈور نمبر الاٹمنٹ کے نظام کی دوسری صورت میں مبہم اور قدیم شکل میں شفافیت لانا ہے ۔ سائنسی ڈیجیٹل ڈور نمبرس کے لیے اقوام متحدہ کی پہچان کو اجاگر کرتے ہوئے اسے پائیدار ترقی کی ہدف کو بھی فروغ دیتا ہے ۔۔ ش