پسماندہ طبقات اور اقلیتی طلبہ کا کیمپس میں تحفظ کے لیے یو جی سی قانون

   

ہندوتوا طاقتیں برہم، ملک بھر میں احتجاج، ایس سی، ایس ٹی، بی سی طبقات سے جھوٹی ہمدردی بے نقاب
محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد۔ 28 جنوری (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے این آر سی، طلاق ثلاثہ، وقف بل، کسان مخالف بل اور ای ڈبلیو ایس تحفظات کی قانون سازی کرنے پر ہندو راشٹرا کی تائید کرنے والے مسکرا رہے تھے۔ آج یو جی سی قانون بنانے پر ہنگامہ آرائی کررہے ہیں۔ اس سے ان کا ہندو۔ ہندو بھائی ہونے کا دعویٰ جھوٹا ہونا بے نقاب ہوگیا ہے کیونکہ اس قانون میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی کے علاوہ اقلیتی طلبہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا خاتمہ کرنے کا قانون بنایا گیا ہے جس کے خلاف ان بھگت سڑکوں پر اُتر گئے ہیں اور اب مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہندوتوا طاقتوں کی جانب سے اس قانون کی مخالفت کرنے کے بعد اندازہ ہوگیا ہیکہ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے مسلمان دشمن نہیں ہیں بلکہ یو جی سی قانون کی مخالفت کرنے والے اصل دشمن ہے۔ اس احتجاج سے ان کے چہروں کا نقاب اُتر چکا ہے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے ضابطوں جنہیں عام طور پر ’’پروموشن آف ایکویٹی ایکٹ 2026‘‘ کہا جارہا ہے نے ملک بھر میں تعلیمی اداروں سے لے کر سیاسی و سماجی حلقوں تک ایک نئی بحث اور بے چینی کو جنم دے رہا ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پات، مذہبی شناخت اور جسمانی معذوری کی بنیاد پر ہونے والی تفریق کا خاتمہ بتایا جارہا ہے۔ حکومت اور حمایتی حلقے اسے سماجی انصاف کی سمت ایک بڑا قدم قرار دے رہے ہیں جبکہ مخالفین اس کو متنازعہ اور تعلیمی ماحول کے لئے نقصان دہ بتا رہے ہیں۔ قانون کے تحت اگر کسی طالب علم کو اس کی ذات جیسے دلت یا قبائیلی، مذہب بالخصوص اقلیتوں سے تعلق یا جسمانی معذوری کی بنیاد پر ہراساں کیا جاتا ہے تو وہ براہ راست یو جی سی کے تحت شکایت درج کراسکتا ہے۔ تعلیمی اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ ایسے معاملات میں فوری اور سخت کارروائی کی جائے جبکہ ہر یونیورسٹی میں ’’برابر مواقع مراکز‘‘ کے قیام کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو مساوی مواقع اور تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ اس قانون نے ملک کو واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ دلت۔ مسلم۔ قبائیلی اور او بی سی تنظیموں نے اس قانون کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کیمپس میں کمزور طبقات کو وقار، تحفظ اور انصاف ملے گا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ قواعد و ضابط طویل عرصے تک جاری امتیازی سلوک کے خلاف ایک موثر قانونی ڈھال ثابت ہوگا۔ دوسری جانب ہندو راشٹر نظریہ سے وابستہ تنظیموں اور دیگر ہندوتوا حامی سیاسی جماعتوں نے اس قانون کے خلاف شدید احتجاج شروع کردیا ہے۔ ملک بھر میں وزیر اعظم نریندر مودی کے پتلے نذر آتش کئے جارہے ہیں۔ ان حلقوں کا الزام ہیکہ اس قانون کا غلط استعمال ہوسکتا ہے اور اس کے ذریعہ مخصوص طبقات کو نشانہ بنایا جائے گا جس سے تعلیمی اداروں میں کشیدگی اور عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ یہ تنازعہ اب سڑکوں سے نکل کر سیاسی اور انتظامی ایوانوں تک پہنچ چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اترپردیش میں بی جے پی کے کئی قائدین اس قانون کے خلاف بطور احتجاج اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے۔ اس طرح بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری کے استعفے کو بھی اس معاملے سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے جس سے افسر شاہی میں پائی جانے والی بے چینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں متعدد درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن پر سماعت جاری ہے۔ عدالت غلطی میں ہونے والی کارروائی پر نہ صرف طلبہ اور تعلیمی اداروں کی نظریں جمی ہوئی ہیں بلکہ سیاسی حلقے بھی اس فیصلے کے ممکنہ اثرات کا انتظار کررہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عدالت اس قانون پر کیا موقف اختیار کرتی ہے اور حکومت ملک گیر احتجاج، سیاسی دباؤ اور سماجی تقسیم سے نمٹنے کے لئے کونسی حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔