پنچایت راج چناؤ پر روک لگانے سے تلنگانہ ہائی کورٹ کا انکار

   

جی او 46 کے خلاف درخواست کی سماعت، نوٹیفکیشن کی اجر ائی سے قبل اعتراض کی گنجائش
حیدرآباد ۔ 28۔نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے پنچایت راج چناؤ کے عمل پر روک لگانے سے انکار کردیا ہے ۔ پسماندہ طبقات کی مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ جی او 46 کو چیلنج کیا اور شکایت کی کہ تحفظات کے تعین کے سلسلہ میں جاری کردہ اس جی او کے ذریعہ بی سی طبقات سے ناانصافی ہوئی ہے ۔ درخواست گزاروں نے انتہائی پسماندہ بیاک ورڈ کلاسیس کو علحدہ تحفظات فراہم کرنے کی اپیل کی اور عدالت سے درخواست کی کہ انتخابی عمل پر روک لگائی جائے۔ درخواست گزاروں نے بی سی طبقات میں اے بی سی اور ڈی زمرہ جات کے لئے علحدہ تحفظات کے تعین کے سلسلہ میں حکومت کو ہدایت دینے کی اپیل کی۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ کی زیر قیادت بنچ نے سماعت کی اور کہا کہ پنچایت چناؤ کا پہلا مرحلہ شروع ہوچکا ہے ، لہذا اس مرحلہ پر کوئی حکم التواء جاری نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت نے درخواست گزاروں سے سوال کیا کہ الیکشن نوٹیفکیشن کی اجرائی سے قبل جی او 46 کو چیلنج کیوں نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس نے حکومت کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے 8 ہفتے بعد آئندہ سماعت مقرر کی ہے۔ تحفظات کے مسئلہ پر ناانصافی کی شکایت کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے ذریعہ انتخابی عمل روکنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ تحفظات سے متعلق اعتراضات کی سماعت انتخابی عمل سے قبل ہونی چاہئے۔ اب جبکہ پہلے مرحلہ کا انتخابی عمل شروع ہوچکا ہے ، جی او 46 پر حکم التواء نہیں دیا جاسکتا۔ عدالت نے یاد دلایا کہ مجالس مقامی میں 42 فیصد بی سی تحفظات کے مسئلہ پر سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے 50 فیصد تحفظات کے ساتھ انتخابات کی ہدایت دی ہے ۔ 2009 میں ہائی کورٹ کی جانب سے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات پر حکم التواء کا حوالہ دیا گیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن نوٹفکیشن کی اجر ائی کے بعد عدالت کی مداخلت ٹھیک نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کے وکیل کے استدلال سے اتفاق کرتے ہوئے جی او 46 پر عمل آوری روکنے سے انکار کیا۔ عدالت نے کہا کہ ہم نے خود انتخابات کے انعقاد کی ہدایت دی ہے اور اب کس طرح حکم التواء جاری کریں گے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے تحفظات سے متعلق خصوصی کمیشن کی رپورٹ برسر عام کرنے کی درخواست کی جس پر ہائی کورٹ نے کہا کہ اس سلسلہ میں کوئی ہدایت حکومت کو نہیں دی جاسکتی۔ ہائی کورٹ نے اندرون 6 ہفتے جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی حکومت کو ہدایت دی اور 8 ہفتے بعد آئندہ سماعت مقرر کی ہے۔1