پولیس ہراسانی ، مسلمانوں کی تذلیل کی کوشش یا خزانہ بھرنے کے حربے!

   

مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے پولیس کو کہیں چھوٹ تو نہیں ؟ مولانا جعفر پاشاہ کے ساتھ نازیبا سلوک پر مختلف گوشوں سے شدید اعتراض
حیدرآباد۔ دونوں شہروں میں پولیس کی ہراسانی مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے یا پھر گاڑیوں کی ضبطی کے ذریعہ سرکاری خزانہ پر عائد ہونے والے بوجھ میں کمی کا منصوبہ ہے! شہر حیدرآباد میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے نام پر پولیس کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں پر مختلف گوشوں سے اعتراض کیا جا رہا تھا اور گذشتہ یوم امیر امارت ملت اسلامیہ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ کی گاڑی کو نیا پل کے قریب 2بجے سے قبل روک دیئے جانے کی اکابرین اور علماء کے علاوہ مذہبی تنظیموں کے ذمہ داروں کی جانب سے مذمت کرتے ہوئے محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے مطالبہ کیا جا رہاہے کہ وہ مولانامحمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ کو روکنے والے پولیس عہدیدار کے علاوہ ان عہدیداروں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے اقدامات کریں جو خواتین کے ساتھ دواخانہ یا کسی اور مقصد کے لئے سفر کرنے والوں کو ہراساں کرنے کے علاوہ نوجوانوںپر حملہ کرتے ہوئے انہیں لہو لہان کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ نیا پل پر مولانا محمد حسام الدین جعفر پاشاہ کو روکنے کے علاوہ انجن باؤلی چوراہے پر حاملہ خاتون کے ساتھ دواخانہ پہنچنے والے نوجوان کو روکتے ہوئے گاڑی ضبط کرنے کی کوشش کی شکایت موصول ہوئی ۔ فلک نما پولیس اسٹیشن سے وابستہ پولیس عہدیدار کی جانب سے حاملہ خاتون کو دواخانہ لے جانے والے شخص کی گاڑی چھیننے کی کوشش کی گئی اور وہ بھی 2 بجے سے قبل اور گاڑی کی کنجیاں حوالہ نہ کئے جانے کی صورت میں نوجوان کا موبائیل چھین لیا گیا تھا ۔ اسی طرح اپنے گھر کی خواتین اور بچوں کے ساتھ سفر کرنے والے ایک نوجوان کو جو اپنے گھر واپس ہورہا تھا اسے رین بازار پولیس کی جانب سے روکتے ہوئے گاڑی چھوڑ کرجانے کے لئے اصرار کیا جا تا رہا ۔ محکمہ پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے کی جانے والی کاروائیاں حکومت کی ہدایت پر ہی ہوتی ہیں اور کوئی بھی عہدیدار اپنی مرضی سے سخت کاروائی نہیں کرتا۔ بتایاجاتا ہے کہ پولیس اسٹیشن کے ذمہ داروں کو اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ وہ یومیہ کم از کم 200 مقدمات درج کریں۔ کورونا وائرس کے رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی کے نام پر درج کئے جانے والے مقدمہ میں کم از کم 1000 روپئے چالان کی گنجائش ہے۔ فلک نما پولیس اسٹیشن کے حدود میں پولیس عہدیدار انجن باؤلی چوراہے کے علاوہ وٹے پلی اور دیگر علاقوں میں نوجوانوں کو روک کر ان کے ماسک نکالتے ہوئے ان کی تصویر کشی کررہے ہیں اور ماسک استعمال نہ کرنے کا چالان کیا جا رہاہے۔ اس طرح کی کئی شکایات منظر عام پر آنے لگی ہیں۔ جناب حامد محمد خان امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ و آندھراپردیش نے مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ کو روکے جانے کے علاوہ نوجوانوں پر کئے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس عہدیدارو ںکی جانب سے مولانا جعفر پاشاہ کی شناخت نہ کی گئی ہو ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ ایک معروف عالم دین ہیں اور پولیس کی جانب سے ایک عالم دین کے ساتھ اس طرح کے رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بالواسطہ طور پر مسلمانوں کی تذلیل کی کوشش کررہی ہے۔ مولانا عبدالرحیم خرم جامعی نے پولیس کی کاروائیوں کو ناقابل برداشت بلکہ مذہبی منافرت پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور حکومت کو جب کبھی ضرورت ہوتی ہے وہ مولانا جعفر پاشاہ کے ذریعہ امن و امان کی اپیل اور دیگر اپیلیں کرواتی ہے لیکن آج کے رویہ سے ایسا لگ رہا ہے کہ ریاست میں پولیس کا نظریہ تبدیل ہوچکا ہے۔ جناب مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان نے بھی مولانا جعفر پاشاہ اور دیگر شہریوں کے ساتھ پولیس کے رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں پولیس راج چل رہا ہے اور کوئی پولیس کو روکنے والا نہیں ہے۔ دونوں شہرو ں حیدرآباد و سکندرآباد میں پولیس کی جانب سے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے نام پر کئے گئے چالانات اور ضبط کی گئی گاڑیوں کی فوری حوالگی کے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے شہر کی مختلف تنظیموں کے ذمہ دارو ںنے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے خزانہ پر عائد ہونے والے بوجھ میں کمی کے لئے چالانات کی ہدایات نہیں دی گئی ہیں تو ایسی صورت میں تمام چالانات کی معافی کا اعلان کرے اور ضبط کی گئی گاڑیوں کو بغیر کسی کاروائی کے واپس حوالہ کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔