نئی دہلی : پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بارے پوچھے گئے سوال کے جواب میں پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے پیر کے روز لوک سبھا میں کہا کہ پٹرول اور ڈیزل پر سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی اور اضافی محصول کی رقم سے مرکزی حکومت شہریوں کو کوویڈ ۔ 19 کا مفت ٹیکہ اور غریبوں کو مفت راشن دے رہی ہے۔ لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں عالمی منڈیوں کے حساب سے طے ہوتی ہیں۔ مرکزی حکومت ان پر 32 روپئے فی لیٹر ایکسائز ڈیوٹی وصول کرتی ہے ۔ اس سے موصول ہونے والی رقم سے پردھان منتری غریب کلیان یوجنا کے تحت 80 کروڑ لوگوں کو مفت کھانا (راشن) دیا جارہا ہے اور 80 کروڑ شہریوں کو مفت ویکسین دی جارہی ہے ۔ 2014 ء کے بعد سے اہم فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت میں 30 سے 70 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس سے کسانوں کو فائدہ ہوا ہے ۔ وزیر اعظم کسان سمان نیدھی یوجنا سے 10 کروڑ کسان پریوار مستفید ہوئے ہیں اور اب تک انہیں 1.35 لاکھ کروڑ روپئے کی امداد دی جاچکی ہے ۔ یہ رقم اُجوالا اسکیم کے لئے بھی استعمال کی جارہی ہے ۔ پوری نے کہا کہ ترقی پسند اتحاد کی حکومت نے پٹرول کی قیمتوں کو 26 جون 2010 ء کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کیا تھا جبکہ ڈیزل کی قیمتوں کو 19 اکتوبر 2014 کو ڈی ریگولیٹ کیا گیا تھا۔ تب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت عالمی مارکیٹ کے حساب سے طے کی جاتی ہے ۔ فی الحال ملک میں 85 فیصد پیٹرولیم درآمد کیا جاتا ہے ۔ عالمی مارکیٹ میں قیمت کا تعین پروڈیوسر اور درآمد کنندہ ملک کرتے ہیں۔وزیر موصوف نے کہا کہ آئیل مارکیٹنگ کمپنی 40روپئے کی پیٹرولیم مصنوعات پر صرف چار روپئے کماتی ہے ۔ اس کے علاوہ، مرکزی حکومت 32 روپئے (پٹرول پر 32.90 روپئے اور ڈیزل پر 31.80 روپئے ) ایکسائز ڈیوٹی وصول کرتی ہے ۔ جبکہ، ریاستی حکومتیں 39فیصد تک VATلگاتی ہیں۔مصنوعات و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے دائرے میں پٹرولیم مصنوعات کو شامل کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا جی ایس ٹی کونسل کا کام ہے۔