ٹیکس میں کمی اور سیس و سرچارج میں اضافہ سے مرکز کے خزانے بھرنی کی حکمت عملی
حیدرآباد۔پٹرول اور ڈیزل کی قیمتو ںمیں مسلسل اضافہ سے تلنگانہ حکومت کو تاحال 4000 کروڑ کا نقصان ہوا ہے اور مرکزی حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوتا جار ہا ہے۔ تلنگانہ کو گذشتہ ایک ماہ میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتو ںمیں اضافہ سے 400 کروڑ کا نقصان ہوا کیونکہ مرکز نے ٹیکس میں کمی کرکے سیس اور سرچارج میں اضافہ کیا ہے جس میں ریاست کو حصہ ادا کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ مرکزی حکومت کے اقدامات کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت کو ایکسائز ٹیکس میں حصہ کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے اور پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے نمٹنے مرکز کی جانب سے ایکسائز ٹیکس میں کمی کی جا رہی ہے اور سیس و سرچارج میں معمولی اضافہ کیا جا رہاہے جس سے مرکزی حکومت کی آمدنی پر کوئی اثر نہیںپڑرہا ہے لیکن ریاست کی آمدنی متاثر ہونے لگی ہے۔ پٹرول و ڈیزل پر ویاٹ ریاست کا حصہ ہوتا ہے اور اکسائز ٹیکس جو وصول کیا جاتا ہے وہ مرکز کا حصہ ہوتا ہے ۔ اس میں فینانس کمیشن کے مطابق اکسائز کی وصولی میں ریاست کو حصہ ادا کرنا ہوتا ہے اور مرکزی حکومت سے ٹیکس میں کٹوتی کے ذریعہ ریاست کی آمدنی کو متاثر کیا جا رہاہے جبکہ سرچارج اور سیس کی وصولی کے ذریعہ اپنی آمدنی کو مستحکم رکھا گیا ہے۔ ریاستی حکومت ‘مرکزی بجٹ کے دوران اس مطالبہ کو شدت کے ساتھ پیش کریگی اور مرکز سے مطالبہ کیا جائے گا کہ تلنگانہ کو ادا شدنی بقایاجات کی فوری اجرائی عمل میں لائی جائے اور ریاستوں کو نقصان والی حکمت عملی کو ترک کرکے ریاستوںکے مفادات کو یقینی بنایا جائے ۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ کی جانب سے آئندہ بجٹ میں تلنگانہ کو کرونا لاک ڈاؤن کی تباہ کن صورتحال میں جن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور حکومت سے جو امداد کا اعلان کیا گیا ہے اس کے حصول کیلئے ایوان میں نمائندگی کے علاوہ مرکزی وزراء کو متوجہ کروانے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔