شہر حیدرآباد کے علاوہ اضلاع میں پرانی قیمتیں ہی برقرار
حیدرآباد۔ 28 مارچ (سیاست نیوز) بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے تاکہ عام آدمی کو راحت فراہم کی جاسکے۔ تاہم اس کے باوجود ملک کے مختلف شہروں کے علاوہ شہر حیدرآباد یا پھر تلنگانہ کے کسی بھی ضلع میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ پٹرول 107.46 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 95.70 روپے فی لیٹر ہی برقرار رہا جس سے عوام کو فوری کوئی فائدہ نہیں مل سکا۔ تفصیلات کے مطابق مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر عائد ایکسائز ڈیوٹی 13 روپے سے کم ہوکر 3 روپے فی لیٹر رہ گئی جبکہ ڈیزل پر 10 روپے کی ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کردی گئی ہے۔ عام طور پر ایسی تخفیف کے بعد پٹرول پمپس پر فوری کمی متوقع ہوتی ہے۔ لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا ہے۔ تیل کمپنیوںنے مرکزی حکومت کی اس راحت سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا جس سے عوام ایک طرح سے مایوسی کا شکار ہیں اور وہ تیل کمپنیوں پر ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔ تیل کمپنیوں کا کہنا ہیکہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ اور دیگر بین الاقوامی عوامل کی وجہ سے قیمتوں میں فوری طور پر کمی ممکن نہیں ہے۔ تاہم مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو عوامی بوجھ کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل نومبر 2021 میں حکومت نے پٹرول پر 5 روپے اور ڈیزل پر 10 روپے کی ایکسائز ڈیوٹی کم کی تھی جبکہ مئی 2022 میں بھی پٹرول پر 8 روپے اور ڈیزل پر 6 روپے کی کمی کی گئی تھی۔ موجودہ فیصلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا مقصد بڑھتی مہنگائی کے درمیان عوام کو کچھ راحت فراہم کرنا ہے۔ 2