سپریم کورٹ کا فیصلہ، پاکستان ہجرت کرنے والوں کیلئے الاٹمنٹ منسوخ، 4000 کروڑ مالیتی اراضی حکومت کو حاصل
حیدرآباد۔23 اکٹوبر(سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے پپل گوڑہ میں واقع 200 ایکڑ اراضی کو جسے ہجرت کرتے ہوئے پاکستان جانے والوں کی قرار دیتے ہوئے الاٹ کیا گیا تھا اس الاٹمنٹ کو منسوخ کرنے کے ہائی کورٹ کے احکام کو برقرار رکھا اور یہ جائیداد جس کی مالیت 4000 کروڑ کی ہے وہ اب سرکاری اراضی ہوگی۔ سندھ پاکستان میں مقیم رمیش رامچند ملانی جو کہ پرسرام رامچند ملانی کے فرزند ہیں نے یہ ادعا کیا تھا کہ ان کی آبائی جائیداد ضلع رنگا ریڈی میں ہے جس میں ان کے والد کو 81 ایکڑ جائیداد حوالہ کی جاچکی ہے لیکن مابقی جائیداد انہیں واپس کی جانی چاہئے جس پر سی سی ایل اے نے کاروائی کرتے ہوئے احکام جاری کردیئے تھے لیکن بعد ازاں سال 2003میں حکومت نے اس الاٹمنٹ کو منسوخ کرتے ہوئے جائیداد پر حق ملکیت جتانے والے رمیش ملانی کے علاوہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹ اور 11 دیگر افراد کے خلاف سی سی ایس میں مقدمہ درج کرتے ہوئے کاروائی کا آغاز کیا تھا ۔ حکومت کی جانب سے تخصیص کے احکام سے دستبرداری اختیار کئے جانے پر ملانی نے ہائی کورٹ میں درخواست داخل کرتے ہوئے حکومت اور محکمہ مال کے خلاف احکام حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں اس میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور انہوں ہائی کورٹ کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیالنج کیا جس میں انہوں نے اس 200 ایکڑ اراضی کو اپنی ملکیت ثابت کرنے کی کوشش کی لیکن محکمہ مال اور ریاستی حکومت کی جانب سے جاری مقدمہ میں مؤثر پیروی کے سبب سپریم کورٹ نے بھی گذشتہ یوم 4000کروڑ مالیتی اس قیمتی اراضی کے مقدمہ میں ہائی کورٹ کی جانب سے دیئے گئے فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے اسے سرکاری جائیداد قرار دیا ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کئے جانے والے ان احکامات پر آر ڈی او چندراکلا نے کہا کہ سپریم کورٹ میں حاصل ہونے والی یہ بڑی کامیابی ہے جس کے سبب 4000 کروڑ مالیتی جائیداد حکومت کو حاصل ہوئی ہے ۔ انہو ں نے جائیداد کی وضع و قطع کے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے احکام کے بعد ہی ریاستی حکومت کے محکمہ مال نے اس جائیداد کو حاصل کرلیا تھا اور حکومت کی نگرانی میں موجود یہ 200ایکڑ اراضی اب حکومت کی ہوچکی ہے۔ چندراکلا نے اس کامیابی کو محکمہ مال کے دیانتدار عہدیداروں اور وکلاء کی محنت کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ وکلاء نے مسلسل محنت کرتے ہوئے اس قیمتی اراضی کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ میں محکمہ کے موقف کا دفاع کیا جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے۔