پڑھائی اور والدین کی مدد کیلئے لڑکی فوڈ ڈیلیوری ایگزیکٹیوبن گئی

   

کورس کی تکمیل کے بعد اہم ملازمت حاصل کرنے کا خواب، دیگر کیلئے مثال
حیدرآباد :۔ سخت محنتی اور دوسروں کے لیے مثال بننے والی ایک نوجوان لڑکی نے حیدرآباد میں فوڈ ڈیلیوری ایگزیکٹیو بن گئی ہے جس کے ذریعہ سے وہ نہ صرف اپنی پڑھائی کررہی ہے بلکہ اپنے والدین کی بھی مدد کررہی ہے ۔ تلنگانہ کے ورنگل ضلع کے ہنمکنڈہ سے تعلق رکھنے والی یومیہ مزدوری کرنے والے کی بیٹی مامڑی پلی رچنا ہوٹل مینجمنٹ کورس کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے حیدرآباد پہونچی تھی ۔ رچنا نے اپنے ابتدائی تعلیم اور کورس کی تکمیل کے دوران کن کن مرحلہ سے گذری ہے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بارہویں جماعت تک کی تعلیم سرکاری اسکول سے مکمل کی ہے اور وہ اسکول ٹیچر کے مشورہ پر اپنی تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کا عزم کے ساتھ حیدرآباد میں ہوٹل مینجمنٹ ڈپلومہ کورس میں داخلہ حاصل کی ۔ تاہم اس کے والدین اس کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں تھے جس کے باعث وہ شہر کے اخراجات بھی برداشت نہیں کرپا رہے تھے ۔ جس وقت انہوں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ حیدرآباد پہونچی تو ایک ملک شاپ میں کام کرنے کا آغاز کیا ۔ جس کے لیے انہیں صبح 4 بجے اُٹھ کر گھر گھر دودھ سربراہ کرنے کے بعد کلاسیس میں شرکت کرتی ۔ اس طرح وہ مہینہ کے ختم پر 9 ہزار روپئے جمع ہوتے جس میں سے 3 ہزار روپئے کمرہ کا کرایہ اور مابقی رقم والدین کے گذر بسر کے اخراجات میں خرچ ہوتے ۔ رچنا نے مزید کہا کہ اس کے پاس صرف ایک ہزار روپئے جو رہ جاتے تھے اس سے اجناس وغیرہ کے لیے ہوتے تاہم اتنی کم رقم سے وہ سنبھل نہیں پا رہی تھی تاہم جب کوویڈ 19 کی وبا شروع ہوئی تو اس کے پاس کافی وقت تھا تو انہوں نے کوئی ملازمت کرنے کا منصوبہ بنایا اور فوڈ ڈیلیوری ایگزیکٹیو بن گئی عام طور پر اس طرح کی ملازمت مرد حضرات کرتے ہیں ۔ انہوں نے گذشتہ ماہ فوڈ ڈیلیوری ایگزیکٹیو کی ملازمت شروع کی تو تب سے وہ بہت حد تک اپنے اخراجات پر قابو پانے لگی ہے ۔ رچنا نے بتایا کہ ہوٹل مینجمنٹ کورس کی تکمیل کے بعد دو ماہ کی تربیت حاصل کریں گی جس کے بعد اس کو اچھی ملازمت یقینی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح انہوں نے والدین کی مدد اور ان کی پڑھائی کے اخراجات کے لیے وہ اس طرح کے کام انجام دی ہے تاکہ ایک اچھی زندگی گذر بسر کرسکے ۔۔