نئی دہلی: پیٹرول اور ڈیزل کے بڑھتے دام پر دہلی اور مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کل ہند مجلس اتحادالمسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ غریبوں کی جان لے کر رہیں گے ،غریبی مٹانے اور اچھے دن لانے کا وعدہ کرنے والی حکومت غریبوں کو ہی مٹانے کے درپے ہے ۔ انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ ابھی کورونا کی مار ختم بھی نہیں ہوئی کہ ملک میں مہنگائی کی مار پڑنے لگی ہے ،کسی بھی حکومت کی نظر میں عوام کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی ہے ،اپنے چند دوستوں کو فائدہ پہنچانے کی خاطر 135کروڑ لوگوں کا گلا گھونٹا رہا ہے ،۔انھوں نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے تمام اشیاء کی قیمتوں پر فرق پڑتا ہے ۔اس لیے کہ ٹرانسپورٹ خرچ بڑھ جاتا ہے ۔ٹماٹر سے لے کر دالوں تک آسمان چھوتی قیمتوں کی ایک وجہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی بی جے پی اور سنگھ کے لوگ کانگریس کے زمانے میں ذرا سی مہنگائی بڑھنے پر سڑکوں پر نکل آتے تھے ۔ایک مرتبہ تو مرحوم اٹل بہاری باجپئی احتجاجاً بیل گاڑی سے پارلیمنٹ پہنچے تھے ۔آج وہی لوگ 60دن میں 35بار قیمتیں بڑھنے پر بھی خاموش ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ،مرکزی حکومت نے دراصل ملک کو ہندتوا کے نام پر سرمایہ داروں کے پاس گروی رکھ دیا ہے ۔براران وطن بھی جے شری رام سے پیٹ بھر رہے ہیں،اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ وہ متحد ہوکر مہنگائی کے خلاف ملک بھرمیں احتجاج کریں۔مجلس ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔ صدر مجلس نے کہا کہ دو مہینوں میں 35بار دام بڑھ چکے ہیں اور کسی کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے ۔اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ یہ دام کہاں جا کر رکیں گے ۔دہلی کی سرکار مفت بجلی،پانی اور گھر گھر راشن بانٹنے کا ڈرامہ کررہی ہے اسے چاہیے کہ وہ پیٹرول ڈیزل اور گیس پر سے ریاستی ٹیکس ختم کردے ، ایسا کرنے سے ہی سب چیزوں کے دام آدھے رہ جائیں گے واضح رہے کہ دہلی اور مرکزی سرکار دونوں ملا کر 55فیصدٹیکس وصول کررہی ہیں۔
ایک ہاتھ سے غریبوں کو مفت راشن دے کر ذلیل کیا جاتا ہے اور دوسری طرف ٹیکس بڑھا کر انھیں سے وصول کرلیا جاتا ہے ۔صدر مجلس نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ مہنگائی کے خلاف اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے احتجاج کریں۔