ریاستی وقف بورڈ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے تشکیل کردہ ٹاسک فورس کا سروے اور تفصیلات سے آگاہی
نظام آباد :نظام آباد میں حیدر آباد روڈ پھولانگ چوراہا پر واقع قدیم قبرستان سے متصل اراضی سروے نمبر225کے مالک محمد نصیرالدین نے 5ہزار سے زائد مربع گز اراضی مسلمانوں کی میتوں کی تدفین کیلئے ریاستی وقف بورڈ میں باقاعدہ ضروری دستاویزات کے ساتھ 2007 ء میں اس اراضی کو درج رجسٹر اوقاف کرنے کیلئے درخواست داخل کی۔لیکن ریاستی وقف بورڈ کو بار ہا توجہہ دلانے و نمائند گی کرنے کے باوجود گذشتہ 14سالوں سے یہ معاملہ زیر التواء ہے۔حالیہ عرصہ میں موجودہ فلاحی کمیٹی مدینہ مسجد پھولانگ اور سابقہ کارپوریٹر نے قبرستان کے لئے وقف کی گئی اس اراضی کو کمرشیل کامپلکس اور جدید مسجد کی تعمیر کے نام پر متنازعہ بناتے ہوئے رکاوٹیں کھڑی کیں۔انہوں نے اس اراضی پر مسجدحمزہ تعمیر کرنے کیلئے ریاستی و قف بورڈ کو اجازت نامہ جاری کرنے کیلئے سال 2015ء میں درخواست داخل کی جس پر ریاستی وقف بورڈ نے سروئیر محمد شجاعت علی خان اور نظام آباد انسپکٹر آڈیٹر عبدالقادر کے ذریعہ اس اراضی کا مشترکہ سروے کروایا۔سروے ٹیم نے اس اراضی پر قبریں موجود ہونے اور وقف کردہ اس اراضی پر منشائے وقف کے تحت مسجد تعمیر نہ کئے جانے کی تفصیلی رپورٹ وقف بورڈ کے چیف ایکزیٹیو آفیسر کو 5جون 2015داخل کردی۔اور یہ واضح کیا کہ قبرستان کیلئے وقف کی گئی اراضی پرمنشائے وقف کے مطابق مسجد کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔بعد میں ریاستی وقف بورڈ نے اخبار میں ایک نوٹفیکیشن شائع کروایا تاکہ اس اراضی کو باضابطہ درج رجسٹر کیا جائے۔ اور کسی کو اعتراض ہونے کی صورت میں دستاویزات کے ساتھ رجوع ہونے کی ہدایت دی۔فلاحی کمیٹی مدینہ مسجد پھولانگ نے صدر مجلس بیر سٹر اسد الدین اویسی یم پی کے ایک مکتوب کے ذریعہ اراضی کو درج رجسٹر نہ کرنے اور فلاحی کمیٹی کے نام پر رکھنے کا اعتراض کرتے ہوئے مسئلے کو طول دے دیا۔اس کے بعد سابق کارپوریٹر پھولانگ نے ضلع کلکٹر وتحصیلدار کو مذکورہ قبرستان کیلئے وقف کردہ اراضی پر ایک مسجد کی تعمیر کی اجازت کیلئے ایک درخواست داخل کی۔ اور فلاحی کمیٹی مدینہ مسجد نے بھی مسز کے کویتا سابق ایم پی سے بھی مسجد کی تعمیر کیلئے تحریری نمائندگی کی۔ نظام آباد ضلع کلکٹر اور تحصیلدار نے تمام دستاویزات کا مشاہدہ کرنے کے بعد آخر کاراپنے ایک حکمنامہ کے ذریعہ درخواست گذار سابقہ کارپوریٹر کی مسجد تعمیر کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا اور واضح کیاکہ یہ اراضی ریاستی وقف بورڈ کی ہے اور اس اراضی پر میتوں کو دفنا یابھی جارہاہے ا س دوران نظام آباد یم ایل اے بیگالہ گنیش گپتا نے بھی اپنے ترقیاتی فنڈ سے قبرستان کی اراضی کے تحفظ کیلئے کمپائونڈ وال تعمیر کروایا اور گیٹ بھی نصب کروایا۔ اسی طرح موجودہ کارپوریٹر اکبر حسین نے18لاکھ روپے کی لاگت سے قبرستان میں سی سی روڈ کی تعمیر بھی کروائی۔ اتنی نمایاں تبدیلیوں کے باوجود محمد نصیر الدین کی جانب سے وقف کی گئی اراضی کو تاحال درج رجسٹر نہیں کیا گیا۔حالانکہ یہ اراضی 2007سے ہی وقف بورڈ کے قبضے میں ہے جہاںتدفین کا عمل جاری ہے۔نظام آباد کے مشہور سماجی جہد کارسلطان احمد بامہدی انجنیر نے مفاد عامہ کے تحت28اگست 2021کو لوک ایوکت حید رآباد میں وقف بورڈ کے خلاف شکایت درج کرواتے ہوئے مقدمہ درج کروادیا۔چنانچہ اس کیس کی پیشی 18نومبر کو مقرر ہے۔ ان حالات میں ریاستی وقف بورڈ کے اعلیٰ حکام نے وقف کردہ اراضی کا دوبارہ سروے کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کیلئے سلسلے میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جس میںریاستی وقف بورڈ کے سپرنڈنٹ عبدالجبار، سرویئر شجاعت علی خان، محمد صدام حسینی نے نظام آباد وقف انسپکٹرو آڈیٹر عبدالساجد کے ہمراہ اس اراضی کا سروے کیا اس موقع پر فلاحی کمیٹی مدینہ مسجد پھولانگ اور سابقہ کارپوریٹر نے ملاقات کرتے ہوئے اپنے ادعا کو پیش کیا۔ ریاستی وقف بورڈ کی سروے ٹیم نے مالک اراضی محمد نصیر الدین اور سماجی جہد کار سلطان احمد بامہدی اورموجودہ کارپوریٹر پھولانگ اکبر حسین سے بھی ملاقات کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کی اور دستاویزات کا مشاہدہ کیا۔ محمد نصیر الدین نے گذشتہ14سال سے اراضی کو درج رجسٹر نہ کرنے پرناراضگی و افسوس کا اظہار کیا۔
