ناقص تحقیقات کیلئے پولیس عہدیدار ذمہ دار ۔ کارروائی کی سفارش۔ 84 صفحات پر مشتمل رپورٹ ڈی جی پی کو پیش
جئے پور 6 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے ‘ جو 2017 کے پہلو خان قتل کیس کے چھ ملزمین کی براء ت کی وجوہات کا جائزہ لینے تشکیل دی گئی تھی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے جو تحقیقات کی گئی ہیں ان میں کئی خامیاں تھیں اور جو ناقص تحقیقات ہوئی ہیں ان کیلئے پولیس عہدیدار ذمہ دار ہیں ۔ ایس آئی ٹی نے اپنی 84 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کردی ہے ۔ یہ رپورٹ راجستھان کے ڈائرکٹر جنرل پولیس بھوپیندر سنگھ کو پیش کی گئی ۔ بھوپیندر سنگھ نے رپورٹ موصول ہونے کی توثیق کی ۔ اس رپورٹ میں غیرذمہ داری سے تحقیقات کرنے والے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ پولیس کی جانب سے ان سفارشات کا جائزہ لیا جائیگا ۔ یہ ایس آئی ٹی 17 اگسٹ کو تشکیل دی گئی تھی جبکہ چھ افراد پہلو خان قتل کیس میں بری کردئے گئے تھے ۔ عدالت نے ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر انہیں بری کیا تھا ۔ ایس آئی ٹی نے تمام چار تحقیقاتی عہدیداروں کی لاپرواہی اور خامیوں کی وضاحت بھی کی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلے تحقیقاتی عہدیدار نے پہلو خان کیقتل کے تین دن بعد مقام واردات کا دورہ کیا تھا ۔ وہاں انہوں نے فارنسک ٹیم کو طلب ہیں کیا اور نہ اس گاڑی کے میکانیکل معائنہ کا حکم دیا جس میںپہلو خان گائے منتقل کر رہے تھے ۔ اس عہدیدار نے جملہ 29 غلطیاں کی ہیں۔ دوسرے تحقیقاتی عہدیدار نے پہلے عہدیدار کی ناقص تحقیقات کو نظرانداز کردیا اور ان کی نگرانی نہیں کی ۔
تیسرے عہدیدار حالانکہ مقام واردات پر گئے لیکن انہوں نے عینی شاہدین کے بیان قلمبند نہیں کئے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے سابقہ عہدیداروں کی غلطیوں کو دور کرنے کی بھی کوشش نہیں کی ۔ چوتھے عہدیدار نے پہلو خان کی جانب سے دئے گئے بستر مرگ کے بیان میں جن چھ افراد کے نام تھے ان تمام کو منظوری دیدی اور اس کیلئے کوئی نیا ٹھوس ثبوت اکٹھا نہیں کیا ۔ ایس آئی ٹی نے کہا کہ اس کیس میں پہلی چارچ شیٹ 3 جون 2017 کو پیش کردی گئی جبکہ اسسٹنٹ ڈائرکٹر (استغاثہ ) وجئے سنگھ نے اس کے خلاف مشورہ دیا تھا اور انہوں نے تحقیقات میں خامیوں کی نشاندہی کی تھی ۔ ایس آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھ ملزمین وپن یادو ‘ رویندر یادو ‘ کالو رام یادو ‘ دیانند یادو ‘ یوگیش کھٹی اور بھیم راتھی کے خلاف قتل کے علاوہ ڈاکہ زنی ‘ فساد برپا کرنے اور ہلاکت خیز ہتھیار استعمال کرنے کا مقدمہ بھی درج کیا جانا چاہئے تھا ۔ عدالت نے ان چھ افراد کو 14 اگسٹ کو بری کردیا تھا ۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم 17 اگسٹ کو تشکیل دی گئی تھی اور اسے یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی کہ وہ ان اہم شواہد کو جمع کرے جو سابقہ تحقیقات میں جمع نہیں کی گئیں اور جنہیں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ۔ اس ٹیم میں نتن دیپ بلاگان ‘ سمیر کمار سنگھ اور سمیر کمار بھی شامل تھے ۔ واضح رہے کہ پہلو خان کو یکم اپریل 2017 کو راجستھان کے الور میں گائے منتقل کرنے کے شبہ میں پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا گیا تھا ۔